World
بھارت سپریم کورٹ کا نوجوان مظاہرین اور نابالغوں کی رہائی سے متعلق اہم فیصلہ
بھارت کی اعلیٰ عدالت نے حالیہ احتجاجی مظاہروں میں شامل نوجوان مظاہرین کے خلاف کوئی بھی سخت جبری کارروائی نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ حراست میں لیے گئے تمام نابالغ بچوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت نے ایک اہم عدالتی حکم نامے میں ملک بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے نوجوانوں اور نابالغوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، عدالت عظمیٰ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ نوجوان مظاہرین کے خلاف کسی بھی قسم کی زبردستی یا سخت جبری کارروائی سے گریز کریں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے حکام کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ مظاہروں کے دوران حراست میں لیے گئے تمام نابالغ بچوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ یہ احکامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مختلف شہروں میں نوجوانوں کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں شدید احتجاج ریکارڈ کروایا جا رہا تھا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت گیر رویے کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ عدالتی فیصلے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ احتجاج کرنے والے نوجوانوں بالخصوص نابالغ افراد کے آئینی اور بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جانا چاہیے۔ قانون کے ماہرین نے اس عدالتی فیصلے کو انسانی حقوق کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی کی سمت میں ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس حکم سے نہ صرف حراست میں موجود کم عمر بچوں کے اہل خانہ کو ریلیف ملے گا بلکہ سڑکوں پر جاری کشیدگی میں بھی کمی واقع ہوگی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ متعلقہ انتظامیہ اور پولیس حکام عدالتی احکامات کی روشنی میں فوری طور پر عمل درآمد شروع کریں گے تاکہ مزید ناخوشگوار واقعات سے بچا جا سکے اور صورتحال کو پرامن طریقے سے سنبھالا جا سکے۔