Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ، امریکہ ایران کشیدگی
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ٹریفک متاثر ہونے کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد تک ہفتہ وار اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے معاوضے کے مطالبات اور اقتصادی دباؤ کے باعث توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور یہ ہفتہ وار بنیادوں پر تقریباً چار فیصد اضافے کی طرف گامزن ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سیاسی اور معاشی تعطل نے توانائی کی عالمی مارکیٹ کو گہرے خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل مزید سست ہو گئی ہے کیونکہ امریکہ کی جانب سے ایران پر مزید اقتصادی دباؤ بڑھانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں جبکہ خطے میں بحران کے حل کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات اور مطالبات سامنے آ رہے ہیں، جس سے منڈی میں عدم استحکام پیدا ہو گیا ہے۔ ایران اور امریکہ دونوں کی طرف سے معاوضے کے مطالبات اور کسی قسم کے سمجھوتہ کی امیدیں مدھم پڑنے سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی ایک انتہائی اہم تجارتی گزرگاہ ہے جہاں سے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے پر ٹریفک کی کمی اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کاروں اور تاجروں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ آنے والے دنوں میں توانائی کے بحران میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی سطح پر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے، جس کے براہ راست اثرات عالمی معیشت اور عام صارف پر پڑیں گے۔ حکومتیں اور متعلقہ ادارے صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ممکنہ توانائی کی قلت سے نبردآزما ہونے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جا سکیں۔