Business
چینی مرکزی بینک کا یوآن کے ریفرنس ریٹ کا اعلان
پیپلز بینک آف چین نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں چینی یوآن کا ریفرنس ریٹ 6.7878 مقرر کیا ہے جو کہ گزشتہ روز کے مقابلے میں معمولی نرمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد برآمد کنندگان پر کرنسی کے دباؤ کو کم کرنا اور معاشی استحکام کو فروغ دینا ہے۔
بیجنگ: پیپلز بینک آف چین (PBOC) نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں چینی یوآن کا ریفرنس ریٹ 6.7878 مقرر کیا ہے، جو گزشتہ روز کے مقابلے میں معمولی نرمی کو ظاہر کرتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں اس فیصلے کو چین کی جانب سے اپنی کرنسی کو مستحکم رکھنے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نئی شرح کا تخمینہ لگ بھگ 6.7413 لگایا گیا تھا، تاہم مرکزی بینک نے معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریٹ کو اس سطح پر طے کیا۔
حالیہ دنوں میں چینی برآمد کنندگان کو کرنسی کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ چینی یوآن کی قدر میں یہ معمولی تبدیلی برآمدی شعبے کو سہارا دینے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا حصہ ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے ریفرنس ریٹ کے ذریعے چینی حکام غیر ملکی مبادلہ کی مارکیٹ میں استحکام لانا چاہتے ہیں تاکہ تجارت کو کسی بھی بڑے دھچکے سے بچایا جا سکے۔
دوسری جانب، غیر ملکی مبادلہ کی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں چینی یوآن کی رینج ٹریڈنگ 6.7450 کے قریب جاری ہے۔ مالیاتی اداروں جیسے کہ یو او بی (UOB) کی رپورٹس کے مطابق، یوآن کی یہ محدود رینج ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار اور تاجر احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور وہ مرکزی بینک کی پالیسیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی اقتصادی منظر نامے میں چین کی کرنسی کی پالیسی کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ تجارتی شراکت دار اور عالمی سرمایہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ اقدامات چین کی برآمدات کو بڑھانے اور ملکی معیشت کو پٹڑی پر رکھنے میں کتنے مؤثر ثابت ہوں گے۔ پیپلز بینک آف چین کی جانب سے ریفرنس ریٹ کا یہ تعین آنے والے دنوں میں مارکیٹ کے رجحانات طے کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔