Technology
نادرا کا نیا کیو آر کوڈ شناختی کارڈ جاری، درآمدی چپ ختم
نادرا نے چودہ سال پرانی درآمدی مائیکرو چپ کا خاتمہ کرتے ہوئے مقامی سطح پر تیار کردہ کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی کارڈ جاری کر دیا ہے۔ اس نئے کارڈ کی تصدیق اب عام سمارٹ فون اور پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے با آسانی کی جا سکے گی۔
اسلام آباد (نیقسورا نیوز اردو) نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے بدھ کے روز ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے کیو آر کوڈ پر مبنی نیا چپس لیس قومی شناختی کارڈ باضابطہ طور پر متعارف کرا دیا ہے۔ یہ نیا کارڈ گزشتہ چودہ برسوں سے استعمال ہونے والی درآمدی مائیکرو چپ کی جگہ لے گا، جسے کراچی میں نیشنل سیکیورٹی پرنٹنگ کمپنی (این ایس پی سی) نے نادرا کی تکنیکی اور حفاظتی خصوصیات کے مطابق ملکی سطح پر تیار کیا ہے۔ نادرا کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس کارڈ میں چپ کی بجائے ایک انتہائی محفوظ کیو آر کوڈ نصب کیا گیا ہے جسے سمارٹ فون اور نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے کسی بھی وقت اسکین اور فوری طور پر وریفائی کیا جا سکے گا۔ وفاقی حکومت نے اس نئے شناختی کارڈ کے اجراء کی منظوری رواں سال 23 فروری کو دی تھی۔ کیو آر کوڈ میں کارڈ ہولڈر کی تمام بنیادی معلومات اور تصویر محفوظ ہوں گی، جس سے مختلف اداروں کے لیے شہریوں کے کوائف درج کرنا آسان ہوگا اور ڈیٹا کے اندراج میں ہونے والی غلطیوں کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے۔ اس کارڈ پر فیملی نمبر، معذور افراد، بزرگ شہریوں، اعضاء کے عطیہ دہندگان اور آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں کے لیے خصوصی علامات بھی واضح طور پر درج کی جائیں گی۔ کارڈ ہولڈر کا نام اور پتہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں پرنٹ کیا جائے گا۔ نادرا کا کہنا ہے کہ ماضی میں متعارف کرائی گئی چپ والی سمارٹ شناختی کارڈ کی ٹیکنالوجی کا مکمل استعمال اس لیے ممکن نہیں ہو سکا تھا کیونکہ ملک بھر میں چپ ریڈرز اور مطلوبہ انفراسٹرکچر کی دستیابی محدود تھی۔ کیو آر کوڈ پر مبنی اس کارڈ نے اس خلا کو کامیابی سے پر کر دیا ہے کیونکہ اس کی تصدیق کے لیے اب کسی مہنگے آلے کی بجائے عام سمارٹ فون اور کیمرے سے منسلک سافٹ ویئر کافی ہوگا۔ ٹیلی کام آپریٹرز، بینکوں، ہسپتالوں، پاکستان ریلویز، پولیس اور دیگر مجاز اداروں کو بھی کیو آر کوڈ پڑھنے اور اس کی تصدیق کرنے کے لیے خصوصی سافٹ ویئر فراہم کیے جائیں گے۔ اس نئے کارڈ کا اجراء مراحل وار کیا جا رہا ہے، اور پہلے مرحلے میں یہ روایتی شناختی کارڈ کی جگہ لے گا، جبکہ جنوری 2027 سے یہ اوورسیز پاکستانیوں اور نابالغ بچوں کے کارڈ سمیت تمام کیٹیگریز میں جاری کیا جائے گا۔ آخری مرحلے میں پاکستان اوریجن کارڈ (POC) کو بھی اس نئے فارمیٹ میں منتقل کر دیا جائے گا۔ نادرا نے واضح کیا ہے کہ اس سے قبل جاری کیے جانے والے تمام شناختی کارڈ اپنی میعاد ختم ہونے تک بالکل درست اور قابلِ قبول رہیں گے۔ اس تبدیلی سے پاکستان کے شناختی ڈھانچے میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے جو ملکی وسائل کی ترویج اور ٹیکنالوجی کی بہتری کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔