World
اٹلی کی فلسطینی ریاست کے لیے سفارتی کوششیں اور مشرق وسطیٰ امن مذاکرات
اٹلی کی حکومت نے مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے حصول کے لیے فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں نئی سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ان کوششوں کے سلسلے میں روم میں اہم بین الاقوامی اور تکنیکی سیشنز کا آغاز ہو چکا ہے جو خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
اٹلی نے مشرق وسطیٰ کے نازک حالات کے پیش نظر فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، عالمی سطح پر دو ریاستی حل کے لیے قائم ہونے والے عالمی اتحاد کے تکنیکی سیشنز کا باضابطہ آغاز روم میں ہو چکا ہے، جس میں مختلف ممالک کے سفارت کار اور ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔ اس اہم بیٹھک کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات تجویز کرنا اور فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت میں ایک مؤثر لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔
اس کے علاوہ، روم ہی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان بھی امریکی ثالثی میں نئے دور کے مذاکرات آئندہ ہفتے مورخہ چار اگست سے شروع ہونے جا رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں ایک اور ممکنہ بڑے تنازع کو روکنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ عالمی برادری اور بالخصوص یورپی ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جنگ زدہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن صرف اور صرف مذاکرات اور دو ریاستی حل کے ذریعے ہی ممکن ہے، لہذا تمام فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
اٹلی کا یہ حالیہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کے امور پر بین الاقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اطالوی حکومت خطے کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ مذاکرات کے اس نئے سلسلے کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر یہ کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو اس سے نہ صرف لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر تناؤ کم ہوگا بلکہ فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں حائل سفارتی رکاوٹیں دور کرنے میں بھی مدد ملے گی۔