Technology
فلاک کا سکیورٹی اسکینڈلز کے بعد نیٹ ورک تک رسائی محدود کرنے کا اعلان
نگرانی کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنی فلاک نے اپنے نمبر پلیٹ ریڈرز کے نیٹ ورک تک رسائی کو محدود کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پولیس افسران کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کے مبینہ غلط استعمال کے بعد کمپنی نے یہ قدم اٹھایا ہے۔
جمعرات کے روز نگرانی کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی فلاک نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے وسیع نیٹ ورک تک رسائی کو محدود کرنے جا رہی ہے۔ اس نیٹ ورک میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد آٹومیٹک لائسنس پلیٹ ریڈرز شامل ہیں جنہیں ملک بھر میں سکیورٹی اور نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ کمپنی کی جانب سے یہ اہم قدم سنہ دو ہزار اکیس سے سامنے آنے والی ان تشویشناک رپورٹس کے بعد اٹھایا گیا ہے جن میں انکشاف کیا گیا تھا کہ مختلف پولیس افسران اس طاقتور ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور اسے ذاتی مقاصد یا بغیر ضابطے کے جاسوسی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
فلاک کمپنی کو گزشتہ کچھ عرصے سے سخت عوامی دباؤ کا سامنا تھا جہاں پرائیویسی کے حامیوں اور مختلف سول سوسائٹی کے اداروں نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ شہریوں کی نقل و حرکت کا ڈیٹا کس طرح محفوظ بنایا جا رہا ہے۔ تنقید کے جواب میں اب کمپنی نے صارفین اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی سکیورٹی پالیسیوں اور نئے حفاظتی اقدامات پر بھروسہ رکھیں۔ کمپنی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی غیر مجاز شخص کو اس ڈیٹا تک رسائی حاصل نہ ہو اور ٹیکنالوجی کا استعمال صرف قانون کے دائرے میں رہ کر ہی کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق لائسنس پلیٹ ریڈرز کا یہ نیٹ ورک جرائم کی روک تھام میں تو مددگار ثابت ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ عام شہریوں کی پرائیویسی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ جب تک اس قسم کے سکیورٹی سسٹمز کے لیے کڑے وفاقی اور ریاستی قوانین نہیں بنائے جاتے، اس وقت تک صرف کمپنیوں کے وعدوں پر مکمل اعتبار نہیں کیا جا सकता۔ فلاک کا یہ نیا قدم اس بحران سے نمٹنے کی ایک کوشش ہے، تاہم یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ آیا یہ اقدامات عوامی اور سرکاری سطح پر اعتماد بحال کرنے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔