Technology
چینی ٹیک شیئرز میں مندی، اے آئی ٹریڈ پر سرمایہ کاروں کا ردعمل
مصنوعی ذہانت اور چپ کے شعبے میں فروخت کے دباؤ کے باعث چینی حصص بازار ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔ شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس میں 1.24 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو ایشیائی تکنیکی منڈیوں میں مندی کی لہر کا حصہ ہے۔
چین کے اسٹاک مارکیٹ میں ٹیکنالوجی کے شعبے کے شیئرز میں ایک بار پھر بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) سے جڑے کاروبار اور تجارت کا از سر نو جائزہ لینا ہے۔ ماہرین کے مطابق، مارکیٹ میں جاری اس حالیہ فروخت کے دباؤ نے چپ بنانے والی کمپنیوں اور اے آئی سے متعلقہ اداروں کو شدید متاثر کیا ہے، جو پورے ایشیا کی تکنیکی مارکیٹ میں مندی کی لہر کا سبب بن رہا ہے۔ شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس بھی اس منفی رجحان سے محفوظ نہ رہ سکا اور تجارتی سیشن کے اختتام پر 1.24 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ پچھلے چند مہینوں کے دوران اے آئی کے شعبے میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی تھی، جس کے بعد اب سرمایہ کار اپنے پورٹ فولیو کو متوازن کرنے کے لیے منافع سمیٹنے کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں چینی شیئرز ایک ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں اور سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ عالمی سطح پر اقتصادی حالات اور سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی کے خدشات نے بھی چینی ٹیکنالوجی انڈیکس پر منفی اثر ڈالا ہے۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کی سمت کا دارمدار اس بات پر ہوگا کہ بڑی تکنیکی کمپنیاں اپنی آئندہ مالیاتی رپورٹوں میں کیا پیشگوئیاں کرتی ہیں اور عالمی سطح پر سرمایہ کار اے آئی کے مستقبل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔