Business
پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن میں اضافہ، ای سی سی کی منظوری اور ہڑتال ختم
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز کے مارجن میں نظرثانی کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز نے ملک بھر میں اپنی مجوزہ ہڑتال کو فی الفور ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے اہم ترین اِقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کے ڈیلرز کے مارجن میں نظرثانی کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے بعد پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اپنی ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ حکومت اور ڈیلرز کے درمیان طویل مذاکرات کے کئی دور ناکام ہونے کے بعد ملک بھر میں ہفتے کے روز سے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کا عندیہ دیا گیا تھا، تاہم آخری وقت میں ہونے والی پیش رفت نے اس بڑے معاشی بحران کو ٹال دیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کے مابین کافی عرصے سے مارجن بڑھانے کے حوالے سے ڈیڈ لاک چلا آ رہا تھا اور ڈیلرز کا مؤقف تھا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، افراط زر اور یوٹیلیٹی بلز کے تناسب سے ان کا موجودہ کمیشن یا مارجن انتہائی کم ہے جس سے کاروبار چلانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں متعدد بار مذاکرات ناکام ہونے کی خبریں سامنے آئیں اور ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے واضح کیا گیا تھا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ ملک بھر میں اپنے پمپس بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔
تاہم، حالیہ ای سی سی اجلاس میں تمام متعلقہ پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ڈیلرز کے مارجن میں نظرثانی کا فیصلہ کیا گیا جس کی باضابطہ منظوری کے فوراً بعد پٹرولیم ڈیلرز نے اپنی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں نہ صرف عوام کو کسی بڑی پریشانی اور ایندھن کی قلت سے بچا لیا گیا ہے بلکہ حکومت اور کاروباری طبقے کے درمیان جاری کشیدگی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ پیٹرول پمپ مالکان اور متعلقہ حکام نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے شعبے میں استحکام آئے گا۔