LIVE
Loading Breaking News...

افغان خواتین کی ابتر حالت، طالبان حکومت پر بی بی سی کی رپورٹ

News Image
افغانستان بھر میں خواتین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان کے پانچ سالہ اقتدار کے دوران ان کی زندگیاں یکسر بدل گئی ہیں۔ خواتین نے عام کوڑوں کی سزاؤں، ملازمتوں کے خاتمے اور صحت کی سہولیات تک رسائی میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کیا ہے۔
افغانستان بھر میں خواتین نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں طالبان کی پانچ سالہ حکومت کے بعد ان کی زندگیاں مکمل طور پر ناقابل شناخت ہو چکی ہیں۔ خواتین نے اپنی روزمرہ زندگی میں پیش آنے والی شدید مشکلات کا کھل کر اظہار کیا اور بتایا کہ کس طرح ان کے بنیادی انسانی حقوق کو سلب کیا گیا ہے۔ انٹرویو دینے والی خواتین کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں اب بھی عام سزاؤں بالخصوص سر عام کوڑے مارنے کے واقعات مسلسل پیش آ رہے ہیں، جس نے پورے معاشرے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کر دی ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کی بڑی تعداد اپنی نوکریوں اور روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے، جس کی وجہ سے بہت سے گھرانے شدید مالی بحران اور غربت کا شکار ہو چکے ہیں۔ صحت کے شعبے میں حائل رکاوٹوں نے بھی افغان خواتین کی زندگیوں کو براہ راست خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مناسب علاج اور طبی سہولیات تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے متعدد خواتین کو زندگی اور موت کی جنگ لڑنا پڑ رہی ہے۔ بنیادی حقوق کی پامالی اور عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے افغان خواتین کا مستقبل انتہائی تاریک نظر آ رہا ہے اور وہ عالمی برادری سے مدد کی فریاد کر رہی ہیں۔