World
فرانس میں بچوں کے لیے سوشل میڈیا پابندی کا بل مسترد
فرانس کی آئینی کونسل نے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کے قانون کو آزادی اظہار رائے کے خلاف قرار دیتے ہوئے معطل کر دیا ہے۔ دوسری جانب صدر ایمانوئل میکرون نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے ایک نیا اور بہتر لائحہ عمل تیار کریں گے۔
فرانس کی آئینی کونسل نے ایک اہم فیصلے میں پندرہ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے والے قانون کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت کا مؤقف ہے کہ یہ قانون ملک کے شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق، بالخصوص آزادی اظہارِ رائے اور معلومات تک رسائی کی آزادی کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ فیصلہ فرانسیسی حکومت کے اس اقدام کے لیے ایک بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے جو کم عمر بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے مبینہ منفی اثرات اور ذہنی دباؤ سے بچانے کے لیے پرعزم تھی۔
حکومت کی طرف سے اس قانون کا بنیادی مقصد آن لائن ہراسانی، بچوں میں ذہنی تناؤ اور سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات کا سدباب کرنا تھا۔ پارلیمنٹ کے ایوان بالا اور زیریں ایوان میں اس بل پر طویل بحث ہوئی تھی اور اسے حکومتی حلقوں کی جانب سے بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، سول سوسائٹی کے اداروں اور ڈیجیٹل حقوق کے علمبرداروں نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا کہ اس قسم کی پابندیاں نجی زندگی کے تحفظ اور آزادی رائے پر قدغن لگانے کے مترادف ہیں۔
آئینی کونسل کے فیصلے کے بعد فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے فوری طور پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا ہے، لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ عزم بھی ظاہر کیا ہے کہ وہ ہار نہیں مانیں گے۔ صدر میکرون کا کہنا ہے کہ حکومت کم عمر بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے پرعزم ہے اور وہ اس عدالت کے اعتراضات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نیا اور قانونی طور پر زیادہ مستحکم مسودہ تیار کریں گے تاکہ بچوں کو انٹرنیٹ کے نقصانات سے بچایا جا سکے۔
ڈیجیٹل سکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، جس پر قابو پانے کے لیے حکومتوں اور ٹیک کمپنیوں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ فرانسیسی صدر کے اس اعلان کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ نیا قانون کس شکل میں سامنے آتا ہے اور کیا یہ آئینی کونسل کے اعتراضات پر پورا اتر سکے گا یا نہیں۔