LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا بال روم پراجیکٹ، سپریم کورٹ میں درخواست دائر

News Image
سابق امریکی صدر نے عدالتِ عظمیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ 40 کروڑ ڈالر مالیت کے بال روم پراجیکٹ کو آگے بڑھانے کی اجازت دے۔ اس سے قبل اپیلٹ عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ اس منصوبے کو جاری رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری حاصل کرنا لازمی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قانونی محاذ آرائی کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے ملک کی سپریم کورٹ سے باضابطہ استدعاء کی ہے کہ وہ چالیس کروڑ ڈالر مالیت کے متنازع بال روم منصوبے کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کی اجازت مرحمت فرمائے۔ یہ قانونی تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب اس سے قبل ایک وفاقی اپیلٹ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ واضح کیا تھا کہ اس پرتعیش پراجیکٹ پر کام جاری رکھنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کو کانگریس سے باضابطہ اجازت اور منظوری لینی ہوگی۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد تعمیراتی کام میں رکاوٹیں حائل ہو گئی تھیں جنہیں دور کرنے کے لیے اب اعلیٰ ترین عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس اور اس منصوبے سے جڑے حلقوں کا ماننا ہے کہ اس طرح کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے ملکی و غیر ملکی مہمانوں کے استقبال اور سرکاری تقریبات کے انعقاد کے لیے انتہائی ناگزیر ہیں۔ دوسری جانب، اس پراجیکٹ کے مخالفین اور قانونی ماہرین کا موقف رہا ہے کہ صدارتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بغیر کانگریس کی پیشگی منظوری کے اتنے بڑے پیمانے پر فنڈز خرچ کرنا اور تعمیرات کرنا آئینی و قانونی دائرہ کار سے تجاوز کے مترادف ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ نچلی عدالتوں سے ہوتا ہوا اب ملک کی سب سے بڑی عدالت تک جا پہنچا ہے جہاں ججز اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا صدر کو اس منصوبے کے لیے کانگریس کی منظوری کے بغیر آگے بڑھنے کا قانونی حق حاصل ہے یا نہیں۔ اس اہم قانونی مقدمے کے فیصلے کے امریکی سیاسی اور انتظامی حلقوں پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس سے یہ طے ہوگا کہ مستقبل میں ایگزیکٹو برانچ کتنے بڑے مالیاتی اور تعمیراتی فیصلے خودمختارانہ طور پر لے سکتی ہے۔