World
غزہ کے جنگی متاثرہ بچوں کے لیے آرٹ تھراپی اور ذہنی سکون
اسرائیلی جارحیت اور جنگ کی تباہ کاریوں سے بچ جانے والے غزہ کے بچے صدمات سے نکلنے اور خوشیاں دوبارہ تلاش کرنے کے لیے آرٹ کا سہارا لے رہے ہیں۔ یہ تخلیقی سرگرمیاں بچوں کو جنگ کے خوفناک ماحول سے عارضی فرار اور ذہنی سکون فراہم کر رہی ہیں۔
غزہ میں جاری طویل اور تباہ کن جنگ کے دوران، کم عمر بچ جانے والے بچے اپنے اوپر گزرنے والے خوفناک صدمات کو کم کرنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے آرٹ اور مصوری کا سہارا لے رہے ہیں۔ تباہ شدہ گھروں اور خیمہ بستیوں کے درمیان ان بچوں کے لیے محفوظ جگہیں بنائی گئی ہیں جہاں وہ رنگوں کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں اور جنگ کے صدمات سے عارضی طور پر فرار حاصل کرتے ہیں۔ یہ تخلیقی سرگرمیاں بچوں کے لیے نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہیں بلکہ ان کی ذہنی صحت بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، رنگوں اور برش کا استعمال بچوں کو خوف، اضطراب اور غم جیسے منفی جذبات کو باہر نکالنے میں مدد دیتا ہے، جو مسلسل بمباری اور پیاروں کی جدائی کی وجہ سے ان کے دل و دماغ پر سوار ہوتے ہیں۔ آرٹ کی ان کلاسوں میں بچے اپنی مرضی کے مناظر پینٹ کرتے ہیں، جن میں اکثر وہ پرامن مستقبل، سبزہ اور اڑتے ہوئے پرندے بناتے ہیں جو ان کی زندگی کی امیدوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ امدادی تنظیموں اور رضاکاروں کی طرف سے شروع کی گئی ان کوششوں کا مقصد جنگ زدہ بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ واپس لانا اور انہیں ایک بار پھر سے جینے کی امنگ دینا ہے۔ اگرچہ حالات بدستور انتہائی خطرناک اور مشکل ہیں، تاہم یہ تخلیقی سرگرمیاں معصوم بچوں کو اپنی کھوئی ہوئی خوشیوں کو دوبارہ تلاش کرنے کا ایک چھوٹا سا موقع ضرور فراہم کر رہی ہیں۔