World
جاپان کا نیا دفاعی پلان اور چین کا ردعمل
جاپان کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری پر چین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ٹوکیو کی نئی دفاعی حکمت عملی خطے میں جاری طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کا باعث بن رہی ہے۔
جاپان کی وزارت دفاع کی جانب سے اگست کے اوائل میں جاری کردہ تازہ ترین وائٹ پیپر نے خطے میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس دستاویز سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وزیر اعظم سنائے تاکائچی کی قیادت میں ٹوکیو اب اپنی عسکری صلاحیتوں کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی تنصیب اور جدید ٹیکنالوجی کا حصول ہے۔ جاپان کی یہ تبدیل ہوتی ہوئی دفاعی حکمت عملی دراصل برسوں سے جاری بتدریج جدید کاری کا ایک عملی مظاہرہ ہے جو اب ایک جارحانہ دفاعی انداز اختیار کر چکی ہے۔ اس پیش رفت کے بعد ٹوکیو خطے میں خود کو ایک زیادہ فعال فوجی طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے علاقائی چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔
دوسری جانب، چین نے جاپان کی ان دفاعی تیاریوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ کا موقف ہے کہ ٹوکیو کا یہ اقدام خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور جاپان کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی خریداری اور تیاری ایشیا میں ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ چینی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جاپان کا دفاعی بجٹ میں اضافہ اور جارحانہ دفاعی ہتھیاروں کا حصول ان کی پرانی 'صرف دفاعی' پالیسی سے انحراف ہے، جس سے خطے میں موجودہ طاقت کا توازن بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جاپان کا یہ اقدام محض علاقائی تحفظ کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک وسیع تر جیو پولیٹیکل کھیل کا حصہ ہے۔ خاص طور پر تائیوان کے معاملے پر چین اور جاپان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ٹوکیو کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی عسکری صلاحیتوں کو مضبوط کرے۔ اگرچہ جاپان اسے اپنے دفاعی تحفظات سے جوڑتا ہے، لیکن بیجنگ اسے اپنے قومی مفادات کے خلاف ایک براہِ راست اقدام سمجھتا ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ کشیدگی نہ صرف سفارتی محاذ پر بلکہ عسکری میدان میں بھی مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے پورے انڈو پیسیفک خطے کی سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔