LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ فوج کی صحرا میں ڈرونز کے استعمال پر مشقیں

News Image
امریکی فوج کے جوانوں نے صحرائی حالات میں ڈرونز کے فعال استعمال اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خصوصی مشقیں کی ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد مشکل موسمی اور جغرافیائی حالات میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے۔
امریکی فوج کے جوانوں نے حال ہی میں ایک اہم مشق کے دوران صحرائی ماحول میں ڈرونز کے استعمال اور اس میں حائل ہونے والی رکاوٹوں پر قابو پانے کے طریقوں کا بغور جائزہ لیا ہے۔ یہ مشقیں اس بات کا احاطہ کرتی ہیں کہ جدید جنگی اور دفاعی حکمت عملی میں بغیر پائلٹ کے ہوائی گاڑیوں کی اہمیت کتنی بڑھ چکی ہے اور سخت موسمی حالات ان کی کارکردگی کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔ صحرا کی شدید گرمی، اڑتی ہوئی ریت اور مواصلاتی چیلنجز کے درمیان ڈرونز کو متحرک رکھنا ایک بڑا امتحان ہے۔ اس تجرباتی مشق کے دوران فوجیوں کو درپیش عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں بیٹری کی کھپت، سینسرز میں ریت کا داخل ہونا اور طویل فاصلے تک سگنلز کا برقرار رہنا شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس طرح کے اقدامات مستقبل کے تنازعات کے لیے فوج کو تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی میدانِ جنگ کا نقشہ بدل رہی ہے۔ امریکی فوج کا یہ بھی ماننا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی نہ صرف فضائی جاسوسی میں مددگار ہے بلکہ یہ دستوں کی حفاظت کو یقینی بنانے میں بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس مشق سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار اور تجربات کو مستقبل کے تربیتی پروگراموں کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس سے نہ صرف آلات کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ فوجیوں کو بھی سخت حالات میں ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کی تربیت ملے گی۔ دنیا بھر میں دفاعی ادارے اب اس بات پر متفق ہیں کہ ڈرونز جدید عسکریت کا لازمی جزو بن چکے ہیں اور ان کی بحالی اور دیکھ بھال کے نظام کو ہر قسم کے ماحول کے مطابق ڈھالنا ناگزیر ہے۔