LIVE
Loading Breaking News...

گوگل پکسل کی بیٹری لائف میں انقلاب، نئی ٹیکنالوجی متعارف

News Image
گوگل اپنے آئندہ پکسل اسمارٹ فونز میں جدید سلیکون کاربن بیٹری ٹیکنالوجی شامل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ یہ نئی ٹیکنالوجی بیٹری کی عمر اور کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر، گوگل کے بارے میں یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ کمپنی اپنے مستقبل کے پکسل اسمارٹ فونز میں 'سلیکون کاربن' بیٹری ٹیکنالوجی کو شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے اسمارٹ فون کی بیٹری لائف میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ گوگل کے پروڈکٹ مینیجر کے حالیہ انٹرویو کے بعد سے اس ٹیکنالوجی پر کام کرنے کی قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔ سلیکون کاربن بیٹریاں اپنی اعلیٰ کثافت (energy density) کی وجہ سے مشہور ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ کم حجم کے باوجود یہ بیٹریاں زیادہ چارج ذخیرہ کر سکتی ہیں۔ موجودہ اسمارٹ فونز میں استعمال ہونے والی بیٹریاں ایک حد تک پہنچ چکی ہیں، جس کی وجہ سے فون کو پتلا اور طاقتور رکھنا ایک چیلنج ہے۔ گوگل کا اس نئی ٹیکنالوجی کی طرف رجحان ظاہر کرتا ہے کہ کمپنی اپنے صارفین کو طویل عرصے تک چلنے والا بیٹری تجربہ فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہتا ہے تو پکسل فونز دیگر حریف کمپنیوں کے لیے ایک سخت مقابلہ ثابت ہوں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سلیکون کاربن ٹیکنالوجی نہ صرف فون کی مجموعی کارکردگی کو بڑھائے گی بلکہ چارجنگ کے عمل کو بھی مزید محفوظ اور تیز بنا سکتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے انضمام سے فون کا ڈیزائن بھی متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ چھوٹی اور زیادہ طاقتور بیٹری کا مطلب ہے کہ فون کے اندر موجود اجزاء کو ترتیب دینے کے لیے مزید جگہ دستیاب ہوگی۔ تاہم، گوگل کی جانب سے اس منصوبے کے بارے میں باضابطہ تفصیلات کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔ فی الحال، یہ تکنیکی دلچسپی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گوگل مستقبل کے ہارڈویئر کے لیے نئی راہیں تلاش کر رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں مزید خبریں متوقع ہیں کہ آیا گوگل اس ٹیکنالوجی کو اپنے اگلے فلیگ شپ ماڈلز میں شامل کرتا ہے یا نہیں۔ صارفین اور تکنیکی مبصرین اس پیش رفت کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اسمارٹ فون انڈسٹری میں بیٹری ٹیکنالوجی میں بہتری ایک طویل عرصے سے درکار تھی۔ اگر گوگل اسے کامیابی سے لاگو کرتا ہے تو یہ پکسل سیریز کی کامیابی میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے اور مارکیٹ میں دیگر اسمارٹ فون مینوفیکچررز کو بھی اسی سمت میں قدم بڑھانے پر مجبور کر سکتا ہے۔