World
نیویارک کے چھوٹے اور تاریک اپارٹمنٹس: ایک پریشان کن حقیقت
نیویارک شہر میں رہائشی مکانات کی سنگین صورتحال سامنے آگئی ہے جہاں لوگ کھڑکیوں کے بغیر تنگ اور تاریک کمروں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ رہائشیوں نے اپنی ان مشکلات کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرتے ہوئے انہیں جدید دور کی ایک ڈسٹوپین حقیقت قرار دیا ہے۔
نیویارک شہر، جو اپنی بلند و بالا عمارتوں اور چکا چوند روشنیوں کے لیے مشہور ہے، اب اس کا ایک تاریک اور افسوسناک پہلو سامنے آیا ہے۔ شہر میں رہائشی مکانات کی بڑھتی ہوئی قلت اور آسمان کو چھوتے کرایوں کے باعث عام شہری ایسے اپارٹمنٹس میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ حال ہی میں بروکلین سے تعلق رکھنے والی صوفیہ نامی ایک خاتون نے اپنی جدوجہد کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس کے بعد یہ بحث چھڑ گئی کہ نیویارک جیسے ترقی یافتہ شہر میں لوگ کس قدر غیر انسانی حالات میں رہنے پر مجبور ہیں۔ صوفیہ نے اپنے بے کھڑکی والے کمرے کو روشن کرنے کے لیے ایک مصنوعی کھڑکی خریدی، تاکہ اسے ایسا محسوس ہو کہ کمرے میں روشنی کا کوئی ذریعہ موجود ہے۔
اس قسم کے کمرے، جنہیں عام طور پر 'باکس رومز' کہا جاتا ہے، نیویارک کے کرائے کے بازار میں ایک عام حقیقت بن چکے ہیں۔ یہ کمرے اتنے تنگ اور تاریک ہوتے ہیں کہ ان میں باہر کی ہوا کا گزر ہوتا ہے اور نہ ہی سورج کی روشنی پہنچتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھڑکیوں کے بغیر رہنے سے انسان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس سے ڈپریشن اور گھبراہٹ جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ بہت سے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اپارٹمنٹس میں ایک 'قیدی' کی طرح محسوس کرتے ہیں، جہاں دیواریں انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوتی ہیں۔
اس مسئلے کی بنیادی وجہ نیویارک میں سستے گھروں کی شدید کمی ہے۔ شہر کی آبادی میں اضافے کے ساتھ کرایوں میں ہونے والا بے پناہ اضافہ عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مکان مالکان چھوٹے چھوٹے کمروں کو بھاری کرایوں پر کرائے پر دے دیتے ہیں۔ نیویارک کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ رہائش کے معیار پر سختی سے نگرانی کرے تاکہ لوگوں کو بنیادی حقوق مل سکیں۔ سوشل میڈیا پر اس صورتحال کو 'ڈسٹوپین' (Dystopian) قرار دیا جا رہا ہے، یعنی ایک ایسا معاشرہ جہاں انسانی زندگی کا معیار انتہائی گر چکا ہے۔
آخر میں، یہ صورتحال نہ صرف نیویارک بلکہ دنیا بھر کے بڑے شہروں کے لیے ایک انتباہ ہے۔ جب شہروں کو صرف کاروباری نفع بخش بنانے کی دوڑ میں شامل کر لیا جائے تو انسانی حقوق اور رہائش کا معیار پس پشت چلا جاتا ہے۔ اگرچہ مصنوعی کھڑکیاں اور آرائشی اشیاء وقتی طور پر کمرے کو بہتر دکھا سکتی ہیں، لیکن یہ حقیقت نہیں بدل سکتیں کہ ایک انسان کو زندہ رہنے کے لیے سورج کی روشنی اور تازہ ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بحث اب نیویارک کی مقامی سیاست میں بھی ایک اہم موضوع بن چکی ہے اور شہری انتظامیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ رہائشی بحران کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔