Entertainment
ویسٹ بیتھ کی تاریخ پر مبنی ایلیسن نوین کی نئی فلم کا اعلان
آرٹسٹ ایلیسن نوین کی جانب سے تیار کردہ نئی فلم نیویارک کے مشہور مقام ویسٹ بیتھ کی ان کہی تاریخ پر روشنی ڈالے گی۔ یہ دستاویزی منصوبہ ہائی لائن اور چینل کلچر فنڈ کے اشتراک سے اگلے ماہ ریلیز کیا جائے گا۔
مشہور امریکی آرٹسٹ ایلیسن نوین نے نیویارک کے ایک اہم ثقافتی مقام 'ویسٹ بیتھ' کی تاریخ کو دستاویزی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ نیا دستاویزی منصوبہ ہائی لائن اور چینل کلچر فنڈ کے مشترکہ اشتراک سے تیار کیا گیا ہے، جس کا مقصد شہر کے اس تاریخی مقام سے جڑی ان پوشیدہ کہانیوں کو دنیا کے سامنے لانا ہے جو اب تک نظر انداز کی جاتی رہی ہیں۔ 'پرائر آکیوپینسی' کے عنوان سے بننے والی یہ فلم نہ صرف ویسٹ بیتھ کی تعمیراتی اہمیت کو اجاگر کرے گی بلکہ یہاں بسنے والے فنکاروں اور ان کی جدوجہد کی ان کہی داستانوں کو بھی فلمبند کیا گیا ہے۔
اس پروجیکٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ ویسٹ بیتھ نیویارک کی فنی تاریخ میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جہاں دہائیوں سے تخلیقی کام کرنے والوں نے اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔ ایلیسن نوین نے اپنی اس فلم میں آرکائیول فوٹیج، انٹرویوز اور جدید سنیماٹوگرافی کا بہترین امتزاج استعمال کیا ہے تاکہ ناظرین کو اس عمارت کی روح اور اس کے پس منظر میں چھپے جذباتی اور سماجی پہلوؤں سے متعارف کرایا جا سکے۔ اس دستاویزی فلم کی نمائش اگلے ماہ ہائی لائن کے خصوصی پروگرام کے تحت کی جائے گی، جس کے لیے شائقین بے تابی سے منتظر ہیں۔
ہائی لائن کے نمائندگان کے مطابق، یہ اقدام آرٹ اور ثقافتی ورثے کو محفوظ کرنے کی ہماری کوششوں کا حصہ ہے۔ چینل کلچر فنڈ کی حمایت سے ایلیسن نوین کو ایک ایسا پلیٹ فارم ملا ہے جس کے ذریعے وہ ویسٹ بیتھ جیسی اہم جگہ کی تاریخ کو دوبارہ زندہ کر سکیں گی۔ فلم ساز کا کہنا ہے کہ نیویارک شہر کی تیز رفتار زندگی کے درمیان ایسی جگہوں کو یاد رکھنا ضروری ہے جنہوں نے فنکاروں کو پناہ فراہم کی۔ یہ فلم نہ صرف ایک آرٹ ورک ہے بلکہ اسے تاریخ کو محفوظ کرنے کی ایک اہم دستاویز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امید کی جا رہی ہے کہ یہ فلم ریلیز کے بعد فن کے شائقین اور محققین کی جانب سے وسیع پذیرائی حاصل کرے گی۔ اس دستاویزی فلم کی پہلی عوامی نمائش کے بعد اسے مختلف بین الاقوامی میلوں اور آرٹ گیلریز میں دکھانے کا بھی امکان ہے، تاکہ ویسٹ بیتھ کی ثقافتی اہمیت کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔ یہ منصوبہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ کس طرح ایک فنکار اپنے لینس کے ذریعے ماضی کے دھندلکوں میں گم تاریخ کو آج کے دور کے لیے دوبارہ دریافت کر سکتا ہے۔