Technology
ویسٹ ورجینیا کے انجینئر کی کامیابی: فلیچر نیوئیل اور ناسا
گرافٹن، ویسٹ ورجینیا سے تعلق رکھنے والے فلیچر نیوئیل نے بچپن میں ہی خلائی تحقیق کے شعبے میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔ آج وہ ناسا میں بطور انجینئر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں اور نوجوانوں کے لیے ایک مثال بن چکے ہیں۔
ویسٹ ورجینیا کے چھوٹے سے قصبے گرافٹن میں پرورش پانے والے فلیچر نیوئیل کے لیے خلا اور ستاروں کی دنیا ہمیشہ سے تجسس کا باعث رہی ہے۔ بچپن میں اسٹار وارز جیسی سائنس فکشن فلموں اور خلائی مہمات کے بارے میں کتابیں پڑھ کر ان کے دل میں کائنات کو سمجھنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ یہ دلچسپی صرف ایک شوق تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ان کے مستقبل کے کیریئر کی بنیاد رکھی۔
ان کی زندگی میں اہم موڑ تب آیا جب 2013 میں ان کی چوتھی جماعت کے ہم نصاب طلبہ کے ساتھ ناسا کی قریبی تنصیبات کا دورہ کیا۔ اس دورے نے فلیچر کے تصورات کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہاں کے ماحول، جدید ٹیکنالوجی اور خلائی سائنسدانوں کو کام کرتے دیکھ کر ان کا عزم مزید پختہ ہو گیا۔ اس وقت ان کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ انہیں بھی ایک دن اس عظیم ادارے کا حصہ بننا ہے۔
تعلیم کے مراحل طے کرنے کے بعد، فلیچر نے انجینئرنگ کے شعبے کو اپنایا اور اپنی محنت اور لگن سے بالاخر ناسا تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ آج وہ بطور انجینئر نہ صرف خلائی مشنز پر کام کر رہے ہیں بلکہ اپنی مقامی کمیونٹی اور ویسٹ ورجینیا کے نوجوانوں کے لیے ایک تحریک کا باعث بھی ہیں۔ ان کی کہانی یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر ارادہ پختہ ہو تو انسان اپنے چھوٹے سے قصبے سے نکل کر بین الاقوامی سطح کے سائنسی اداروں میں بھی اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔
فلیچر کا کہنا ہے کہ ناسا میں کام کرنا ایک ایسا خواب ہے جو سچ ہو چکا ہے، لیکن اس کے پیچھے برسوں کی محنت اور مسلسل سیکھنے کا عمل شامل ہے۔ وہ آج بھی اسی تجسس کے ساتھ کام کرتے ہیں جو انہیں بچپن میں ستاروں کی طرف دیکھ کر محسوس ہوتا تھا۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے خاندان کے لیے باعث فخر ہے بلکہ ان تمام طلبہ کے لیے ایک پیغام ہے جو سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں اپنا مستقبل تلاش کر رہے ہیں۔