LIVE
Loading Breaking News...

میکسیکو کے سابق صدر کے بیٹے کا امریکی ویزا منسوخ ہونے کا دعویٰ

News Image
میکسیکو کے سابق صدر اینڈریس مینوئل لوپیز اوبراڈور کے بیٹے نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام نے ان کا ویزا منسوخ کر دیا ہے۔ یہ اقدام میکسیکن سیاستدانوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
میکسیکو کے سابق صدر اینڈریس مینوئل لوپیز اوبراڈور کے صاحبزادے نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکومت نے ان کا ویزا منسوخ کر دیا ہے۔ اس خبر نے میکسیکو اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی کو ایک بار پھر سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ میکسیکو کے ان سیاستدانوں کے خلاف سخت کارروائی کر رہا ہے جن پر منشیات فروش گروہوں یعنی کارٹیلز کے ساتھ مبینہ روابط رکھنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم، امریکی حکام کی جانب سے تاحال اس ویزا منسوخی کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سابق صدر لوپیز اوبراڈور، جنہیں اے ایم ایل او (AMLO) کے نام سے جانا جاتا ہے، کے دورِ حکومت میں میکسیکو اور امریکہ کے درمیان سکیورٹی تعاون کے معاملات پر کافی اتار چڑھاؤ رہا تھا۔ اگرچہ سابق صدر نے ہمیشہ ان الزامات کو مسترد کیا ہے کہ ان کی حکومت یا خاندان کے کسی فرد کا مجرمانہ عناصر کے ساتھ کوئی تعلق ہے، لیکن امریکہ کی جانب سے میکسیکن سیاستدانوں کے پس منظر کی جانچ پڑتال کا عمل انتہائی سنجیدہ ہو چکا ہے۔ اس پیش رفت کو ماہرین ایک بڑے سیاسی دباؤ کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس کا مقصد میکسیکو میں کرپشن اور جرائم کے خلاف جاری مہم کو مزید تیز کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے کسی اہم شخصیت کے بیٹے کا ویزا منسوخ کیا گیا ہے تو یہ ایک واضح پیغام ہے کہ بائیڈن انتظامیہ منشیات کے سمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ اس سے قبل بھی کئی میکسیکن عہدیداروں کے ویزے اسی بنیاد پر منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس ویزا منسوخی کے پیچھے کن مخصوص وجوہات یا شواہد کو بنیاد بنایا گیا ہے، لیکن سابق صدر کے خاندان کی جانب سے لگائے گئے اس الزام نے میکسیکو کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مستقبل میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا سابق صدر کا خاندان اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی کرتا ہے یا امریکہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری کرتا ہے۔ اس دوران، میکسیکو کی موجودہ حکومت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے ملک کے سیاستدانوں کے کردار پر شفافیت لائے۔ اس واقعے کے اثرات دونوں ممالک کے باہمی تعلقات اور مستقبل میں ہونے والے سکیورٹی مذاکرات پر مرتب ہونے کا قوی امکان ہے، کیونکہ امریکہ اب میکسیکو کے سیاسی حلقوں میں براہ راست اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کی نگرانی سخت کر چکا ہے۔