Technology
ون گورنمنٹ پروگرام کی کامیابی: مصنوعی ذہانت سے اربوں ڈالر کی بچت
وفاقی حکومت کے 'ون گورنمنٹ' پروگرام کے تحت مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے استعمال سے 1.62 ارب ڈالر کی بڑی بچت حاصل ہوئی ہے۔ اس پروگرام نے حکومتی معاہدوں اور ٹیکنالوجی کی خریداری کے عمل کو انتہائی شفاف اور سستا بنا دیا ہے۔
امریکی وفاقی حکومت کے 'ون گورنمنٹ' (OneGov) پروگرام نے اپنی کارکردگی کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے سرکاری خزانے کو 1.62 ارب ڈالر سے زائد کی بچت فراہم کی ہے۔ جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس پروگرام کے تحت مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجی کو حکومتی معاہدوں اور خریداری کے عمل میں شامل کر کے تقریباً 1.4 ارب ڈالر کی خطیر رقم محدود مدت کے رعایتی پیکیجز کے ذریعے بچائی گئی ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مختلف سرکاری ادارے مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس کی تزویراتی اہمیت پر غور کر رہے ہیں تاکہ حکومتی اخراجات میں مزید کمی لائی جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ون گورنمنٹ پروگرام دراصل حکومتی سطح پر ٹیکنالوجی کی خریداری کے طریقہ کار کو جدید بنانے اور اسے مرکزی نظام کے تحت لانے کا ایک انقلابی اقدام ہے۔ اس پروگرام کی بدولت سرکاری اداروں کو مہنگے سافٹ ویئرز اور ٹیکنالوجی کی خدمات سستے داموں دستیاب ہوئی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے نہ صرف خریداری کے عمل میں رفتار آئی ہے بلکہ ڈیٹا کے تجزیے اور فیصلہ سازی میں بھی شفافیت پیدا ہوئی ہے، جس سے انسانی غلطیوں کا امکان کم ہو گیا ہے اور سرکاری فنڈز کا بہتر استعمال ممکن ہوا ہے۔
دوسری جانب، مختلف سرکاری ادارے اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے دائرہ کار کو مزید کس طرح بڑھایا جائے تاکہ طویل مدتی فوائد حاصل کیے جا سکیں۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی مالی بچت کا باعث بن رہی ہے، تاہم حکومتی حکام ڈیٹا سیکیورٹی اور پرائیویسی جیسے مسائل پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آنے والے وقت میں، حکومت کا ارادہ ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے ان منصوبوں کو مزید وسیع کرے تاکہ ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بہتر کیا جا سکے۔