World
ایران اور چین کے درمیان نایاب معدنیات کے شعبے میں اہم معاہدہ
نیشنل نیچرل سائنس فاؤنڈیشن آف چائنا نے ایران کے ساتھ مل کر نایاب زمینی عناصر کی تلاش اور پروسیسنگ کے لیے ایک نئے تحقیقی تعاون کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا جس کا زیادہ تر مالی بوجھ چین برداشت کرے گا۔
چین کی نیشنل نیچرل سائنس فاؤنڈیشن (NSFC) نے پیر کے روز ایک اہم پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ نایاب زمینی عناصر (Rare Earth Elements) کی تلاش اور ان کی پروسیسنگ کے لیے باہمی تعاون کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس شراکت داری کا بنیادی مقصد سائنسی ورکشاپس کا ایک سلسلہ شروع کرنا ہے، جس کے ذریعے دونوں ممالک کے ماہرین ان قیمتی معدنیات کو نکالنے اور انہیں کارآمد بنانے کی ٹیکنالوجی پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس پورے منصوبے کی فنڈنگ کا بڑا حصہ چین کی جانب سے فراہم کیا جائے گا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ اس شعبے میں اپنی مہارت کو ایران تک منتقل کرنے میں سنجیدہ ہے۔
نایاب زمینی عناصر جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرانک آلات، بیٹریوں اور دفاعی آلات کی تیاری میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا بھر میں ان معدنیات کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور چین پہلے ہی عالمی سطح پر ان کی سپلائی چین میں ایک اہم کھلاڑی ہے۔ ایران کے ساتھ اس سائنسی تعاون کو عالمی منڈی میں ایک بڑی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایران کے پاس موجود قدرتی وسائل کو بہتر طور پر استعمال میں لانے کا موقع ملے گا جبکہ چین کو اپنے خام مال کی سپلائی کے لیے ایک نیا اور مستحکم شراکت دار مل سکے گا۔
اس تعاون کے تحت منعقد ہونے والی ورکشاپس میں دونوں ممالک کے سائنسدان جدید ترین پروسیسنگ تکنیکوں اور ایکسپلوریشن کے جدید طریقوں پر تحقیق کریں گے۔ یہ منصوبہ نہ صرف سائنسی لحاظ سے اہم ہے بلکہ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کا بھی ایک ذریعہ ہے۔ اگرچہ یہ ایک سائنسی پروگرام کے طور پر پیش کیا گیا ہے، تاہم عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان اس قسم کے طویل مدتی معاہدے خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
حتمی طور پر، یہ شراکت داری ایران کی معدنی صنعت میں نئی روح پھونک سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران بین الاقوامی اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ چین کی مدد سے نایاب معدنیات کی پروسیسنگ کی صلاحیت حاصل کرنا ایران کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی کے لیے ان معدنیات کی دستیابی ناگزیر ہے اور یہ باہمی تعاون اسی سمت میں ایک درست اور اہم قدم ہے۔