Politics
احتجاجی مقامات پر چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی پر سپریم کورٹ میں سماعت
بھارتی سپریم کورٹ نے احتجاجی مقامات پر پولیس کی جانب سے فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ درخواست سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ اے اے رحیم کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے ملک بھر کے احتجاجی مقامات پر پولیس کی جانب سے 'فیشل ریکگنیشن' یعنی چہرہ شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی کے استعمال کے خلاف دائر ایک اہم درخواست کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاملے پر عدالتِ عظمیٰ کا یہ اقدام بائیو میٹرک نگرانی کے حوالے سے جاری بحث اور شہریوں کی نجی زندگی کے حقوق کے تحفظ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ یہ درخواست سی پی آئی (ایم) کے رکن پارلیمنٹ اے اے رحیم کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے اس قسم کی نگرانی کے اقدامات کو چیلنج کیا جائے۔
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ عوامی مقامات اور پرامن مظاہروں کے دوران فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کا استعمال شہریوں کی پرائیویسی یعنی رازداری کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔ وکیلوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نگرانی سے عوام میں خوف و ہراس پھیل سکتا ہے، جس کے نتیجے میں آئینی طور پر حاصل احتجاج کا حق متاثر ہو سکتا ہے۔ درخواست میں یہ بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ حکومت اس ڈیٹا کو غیر ضروری طور پر جمع کرکے شہریوں کی نقل و حرکت اور ان کی سیاسی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھ سکتی ہے، جو ایک جمہوری معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
عدالت کی جانب سے اس معاملے کو سماعت کے لیے منظور کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدلیہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور انفرادی حقوق کے درمیان توازن قائم کرنے کے معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ ماضی میں بھی مختلف سول سوسائٹی کے ارکان اور ماہرین قانون اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ جب تک اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کوئی واضح قانونی فریم ورک اور ڈیٹا پروٹیکشن قوانین موجود نہ ہوں، اس وقت تک اسے احتجاجی مقامات پر استعمال کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ کے اگلے احکامات پر مرکوز ہیں کہ آیا عدالت اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر کوئی وقتی پابندی لگاتی ہے یا اس کے لیے ضوابط طے کرنے کی ہدایت جاری کرتی ہے۔