LIVE
Loading Breaking News...

ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں ریکارڈ اضافہ، سرمایہ کاروں میں اطمینان

News Image
امریکہ کے اسٹاک انڈیکس ایس اینڈ پی 500 نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں اضافے کے بعد نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ افراط زر میں استحکام کے باعث فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود بڑھانے کے خدشات میں کمی واقع ہوئی ہے۔
امریکہ کی اسٹاک مارکیٹ میں ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے جہاں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس نے اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر کاروبار بند کیا ہے۔ مارکیٹ کے اس مثبت رجحان کے پیچھے ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی غیر معمولی تیزی کا بنیادی کردار ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص کی بڑے پیمانے پر خریداری نے انڈیکس کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں مدد فراہم کی۔ یہ پیشرفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مارکیٹ کے شرکاء مستقبل کے حوالے سے کافی پرامید ہیں۔ اس تیزی کی ایک بڑی وجہ پروڈیوسر پرائس انفلیشن یعنی پیداواری لاگت کے اعداد و شمار میں استحکام کا آنا ہے۔ حالیہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افراط زر کی شرح قابو میں ہے، جس کی وجہ سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات اب کافی حد تک کم ہو گئے ہیں۔ جب شرح سود بڑھنے کا ڈر ختم ہوتا ہے تو سرمایہ کار اسٹاکس کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں، جس کا اثر ہمیں آج کی ٹریڈنگ میں واضح طور پر دکھائی دیا ہے۔ اس کے علاوہ میموری چپ بنانے والی بڑی کمپنیوں جیسے کہ سین ڈسک اور مائیکرون ٹیکنالوجی کی کارکردگی نے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کمپنیوں کی جانب سے سامنے آنے والی اطلاعات نے نہ صرف ٹیکنالوجی سیکٹر کو سہارا دیا بلکہ دیگر شعبوں میں بھی مثبت اثرات مرتب کیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر معاشی حالات اسی طرح مستحکم رہے تو آنے والے دنوں میں بھی مارکیٹ میں یہ تیزی برقرار رہ سکتی ہے۔ مجموعی طور پر، وال اسٹریٹ کے لیے یہ ایک شاندار دن ثابت ہوا ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کار اب فیڈرل ریزرو کے اگلے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہیں، تاہم موجودہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے جاری کردہ اس مثبت ردعمل نے ملکی اور بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹوں میں ایک نئی روح پھونک دی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ رجحان معیشت کے دیگر شعبوں پر بھی گہرے مثبت اثرات مرتب کرے گا۔