LIVE
Loading Breaking News...

فلاک سیفٹی کے شفافیت کے دعوے، کیا یہ صرف ایک پی آر اسٹنٹ ہے؟

News Image
نگرانی کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنی فلاک سیفٹی کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے پرائیویسی پروٹوکولز پر عوامی حلقوں اور ماہرین نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات پولیس کی جانب سے سسٹم کے غلط استعمال کو روکنے میں ناکام رہیں گے۔
امریکہ بھر میں نگرانی کے نظام کے لیے مشہور کمپنی 'فلاک سیفٹی' (Flock Safety) نے حال ہی میں اپنی ٹیکنالوجی کے شفافیت اور پرائیویسی سے متعلق نئے حفاظتی اقدامات متعارف کرائے ہیں۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کمپنی کے کیمروں کے ذریعے پولیس افسران کی جانب سے سسٹم کے غلط استعمال اور شہریوں کی غیر قانونی جاسوسی کی متعدد رپورٹس سامنے آ چکی ہیں۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ نئے پروٹوکولز عوامی اعتماد بحال کرنے اور ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہیں، لیکن عوامی حلقوں اور ڈیجیٹل حقوق کے علمبرداروں نے ان اعلانات کو محض ایک 'پی آر اسٹنٹ' قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ فلاک سیفٹی کی جانب سے پیش کردہ یہ نئے اصول بنیادی مسائل کو حل کرنے سے قاصر ہیں۔ ناقدین کا استدلال ہے کہ جب تک نگرانی کے نظام کے بنیادی ڈھانچے میں ایسی رکاوٹیں موجود ہیں جو پولیس کو بغیر عدالتی وارنٹ کے شہریوں کو ٹریک کرنے کی سہولت دیتی ہیں، تب تک صرف شفافیت کے دعوے بے معنی ہیں۔ سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ یہ کمپنی صرف قانونی چارہ جوئی اور عوامی دباؤ سے بچنے کے لیے ایسے اقدامات کا ڈرامہ کر رہی ہے، جبکہ درحقیقت نگرانی کا دائرہ کار بدستور وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ فلاک سیفٹی کے کیمرے امریکہ بھر میں جرائم کی روک تھام کے نام پر نصب کیے گئے ہیں، مگر ان کی وسعت نے پرائیویسی کے عالمی معیارات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، ان کیمروں کا ڈیٹا اکثر ایسے افسران تک پہنچ جاتا ہے جو اسے ذاتی مفادات یا بلاجواز نگرانی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ کمپنی نے نئے ضوابط میں کچھ سخت نگرانی کے عمل شامل کرنے کا وعدہ کیا ہے، لیکن تکنیکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات پر عمل درآمد کی نگرانی کا کوئی آزادانہ طریقہ کار موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے یہ صرف کاغذی کارروائی بن کر رہ جائیں گے۔ آخر میں، یہ صورتحال ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتی ایجنسیوں کے درمیان گٹھ جوڑ پر ایک بڑی بحث کو جنم دیتی ہے۔ عوامی رائے عامہ اب تیزی سے اس بات کے حق میں ہموار ہو رہی ہے کہ نجی کمپنیوں کو شہریوں کی نگرانی کا اتنا اختیار نہیں دیا جانا چاہیے کہ وہ ان کی نجی زندگیوں کی جاسوسی کو معمول بنا لیں۔ فلاک سیفٹی کے لیے آنے والا وقت مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ محض اعلانات سے اب صارفین اور انسانی حقوق کے محافظ مطمئن ہونے والے نہیں ہیں۔ کمپنی کو اپنے سسٹم کے ڈیزائن اور رسائی کے حقوق میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی شکوک و شبہات کو ختم کیا جا سکے۔