Health
سائیکوسس اور ٹرامیٹک صدمے کا تعلق: علاج کے جدید طریقے
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرا جذباتی صدمہ انسان میں سائیکوسس جیسی سنگین علامات کو جنم دے سکتا ہے جو کہ محض ایک دماغی بیماری نہیں ہے۔ بروقت ٹاک تھراپی اور ماہرانہ مشاورت کے ذریعے اس کیفیت کا مؤثر علاج ممکن ہے۔
عام طور پر جب لوگ 'سائیکوسس' (Psychosis) کا لفظ سنتے ہیں تو ان کے ذہن میں ایک خطرناک دماغی بیماری یا کسی جرائم پیشہ شخص کا تصور ابھرتا ہے۔ تاہم، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تصور مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سائیکوسس محض ایک جینیاتی یا کیمیائی خرابی نہیں ہے، بلکہ یہ اکثر زندگی میں پیش آنے والے شدید جذباتی صدمات (Trauma) کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ جب کوئی انسان اپنی برداشت سے زیادہ کسی خوفناک واقعے کا سامنا کرتا ہے تو اس کا ذہن اسے ہینڈل کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں حقیقت سے رابطہ ٹوٹنا یا وہم و گمان کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے، جسے طب کی زبان میں سائیکوسس کہا جاتا ہے۔
تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بچپن میں پیش آنے والے واقعات، تشدد یا طویل عرصے تک ذہنی دباؤ میں رہنے والے افراد میں اس بیماری کے آثار زیادہ پائے جاتے ہیں۔ معاشرتی سطح پر اس بیماری سے جڑے غلط تصورات اور خوف کے باعث متاثرہ افراد بروقت مدد حاصل کرنے سے کتراتے ہیں۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سائیکوسس ایک ایسی حالت ہے جو درست تشخیص اور ہمدردانہ رویے سے بہتر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق، مریض کو اس بات کا احساس دلانا کہ وہ تنہا نہیں ہے، اس کی بحالی کی جانب پہلا قدم ہے۔
علاج کے حوالے سے 'ٹاک تھراپی' (Talk Therapy) یا گفتگو کے ذریعے علاج کو ایک انقلابی قدم قرار دیا گیا ہے۔ ٹاک تھراپی مریض کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ اپنے دبے ہوئے جذباتی صدمات کو زبان دے سکے اور اپنے خوف کا تجزیہ کر سکے۔ جب مریض اپنے ٹراما کو سمجھنے لگتا ہے تو اس کے دماغ پر پڑنے والا دباؤ کم ہونے لگتا ہے، جس سے سائیکوسس کی شدت میں نمایاں کمی آتی ہے۔ دواؤں کے ساتھ ساتھ ٹاک تھراپی کا استعمال مریضوں کو دوبارہ معاشرے کا ایک فعال رکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
آخر میں، یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ سائیکوسس کوئی لاعلاج کیفیت نہیں ہے۔ اگر بروقت نفسیاتی مدد اور معاون ماحول فراہم کیا جائے تو متاثرہ شخص اپنی زندگی معمول پر لا سکتا ہے۔ خاندان اور معاشرے کو چاہیے کہ وہ ایسے مریضوں کو بدنام کرنے کے بجائے ان کے ساتھ تعاون کریں اور انہیں ماہر نفسیات سے رجوع کرنے کی ترغیب دیں۔ تعلیم اور آگاہی ہی اس خاموش بیماری سے لڑنے کا واحد راستہ ہے۔