Business
پیٹرولیم ڈیلرز کی ہڑتال ختم، مارجن میں اضافے کا حکومتی فیصلہ
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ حکومت نے پیٹرول پمپ مالکان کے منافع کے مارجن میں اضافے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے والے ڈیلرز نے حکومت کے ساتھ ہونے والے کامیاب مذاکرات کے بعد اپنی ملک گیر ہڑتال کو موخر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب حکومت نے پیٹرول پمپ مالکان کے دیرینہ مطالبے پر ان کے منافع کے مارجن میں اضافے کی باقاعدہ منظوری دے دی۔ حکومتی سطح پر ہونے والی بات چیت میں ڈیلرز کو یقین دہانی کرائی گئی کہ ان کے معاشی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، جس کے بعد ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں پیٹرول پمپ بند رکھنے کا اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔
پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ گزشتہ کافی عرصے سے پیٹرول کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ آپریشنل اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے ڈیلرز کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو گیا تھا۔ اس صورتحال کے پیش نظر انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے منافع کے تناسب کو بڑھایا جائے تاکہ وہ اپنے اخراجات پورے کر سکیں۔ حکومت کی جانب سے مارجن میں اضافے کے فیصلے کو ڈیلرز کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف پٹرول پمپ مالکان کو ریلیف ملے گا بلکہ عوام کو بھی ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں پیٹرول پمپس بدستور کھلے رہیں گے اور پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پیٹرولیم سپلائی چین میں پیدا ہونے والے ممکنہ بحران کا خدشہ ٹل گیا ہے۔ حکومت اور ڈیلرز کے درمیان اس مفاہمت سے شہریوں میں پائے جانے والے تشویش کے بادل بھی چھٹ گئے ہیں کیونکہ ہڑتال کی صورت میں ملک بھر میں ٹرانسپورٹ اور روزمرہ کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہو سکتی تھی۔ اب توقع کی جا رہی ہے کہ حکومتی فیصلے پر جلد عمل درآمد شروع کر دیا جائے گا تاکہ معاملات خوش اسلوبی سے چلتے رہیں۔