World
یو ایس ایس لنکن کے حالات پر تنازع، صدر ٹرمپ کا موقف سامنے آ گیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یو ایس ایس لنکن کی تعیناتی کو کافی قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے اسے مزید طویل قرار دیا ہے۔ دوسری جانب جہاز پر موجود فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ نے ناقص سہولیات اور خراب حالات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یو ایس ایس لنکن کی طویل تعیناتی کے حوالے سے جاری تنازعہ پر اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طیارہ بردار بحری جہاز کو ابھی تک اپنی ضرورت سے کافی کم وقت کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جہاز پر موجود فوجی اہلکاروں کے اہل خانہ نے جہاز کے اندرونی حالات، خاص طور پر صفائی ستھرائی کی کمی اور ناقص رہائشی سہولیات کے بارے میں شدید احتجاج اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طویل تعیناتی نے جہاز کے عملے کی ذہنی اور جسمانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
فوجی خاندانوں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جہاز کے شاورز میں پھپھوندی لگی ہوئی ہے اور عملے کو صابن جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق جہاز پر موجود حالات انتہائی غیر تسلی بخش ہیں جس کی وجہ سے اہلکاروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے یہ تاثر دیا کہ یہ خدشات مبالغہ آرائی پر مبنی ہو سکتے ہیں اور جہاز کا مشن ابھی مکمل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو ایس ایس لنکن کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہے۔
اس مسئلے پر سیاسی حلقوں میں بھی بحث جاری ہے، جہاں حکومتی ترجمانوں اور کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ جہاز پر موجود حالات کو میڈیا میں توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم، عینی شاہدین اور متاثرہ خاندانوں کا اصرار ہے کہ ان کے پیارے انتہائی مشکل حالات میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد، اب امریکی بحریہ نے یو ایس ایس لنکن کی مدد کے لیے ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ عملے پر دباؤ کو کم کیا جا سکے اور تکنیکی مسائل پر قابو پایا جا سکے۔
اس صورتحال نے ایک بار پھر بیرون ملک تعینات امریکی فوجیوں کے حقوق اور ان کے اہل خانہ کی تکالیف پر بحث چھیڑ دی ہے۔ عالمی تناظر میں یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران سے کشیدگی کے باعث سمندری راستوں کی حفاظت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ اپنی عسکری طاقت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے اہلکاروں کی فلاح و بہبود کو بھی یقینی بنائے، تاکہ فوج کا مورال بلند رہے۔