World
متحدہ عرب امارات کے ٹینکرز پر حملہ، آبنائے ہرمز میں سکیورٹی الرٹ جاری
آبنائے ہرمز کے قریب متحدہ عرب امارات کے دو تجارتی ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد خطے میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کے حساس سمندری راستے پر ایک بار پھر کشیدگی نے جنم لیا ہے جب متحدہ عرب امارات کے دو تجارتی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ ٹینکرز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھے کہ اچانک انہیں ڈرون حملوں اور دیگر جارحانہ کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے کے بعد سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور میری ٹائم سکیورٹی کے اداروں نے بحری جہازوں کے لیے ہنگامی ایڈوائزری جاری کر دی ہے تاکہ کسی بھی مزید ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
اس حملے کے فوراً بعد سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ عرب ممالک نے اس اقدام کو ایک 'غیر اشتعال انگیز' اور بزدلانہ حملہ قرار دیتے ہوئے ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم ترین گزرگاہ ہے اور اس طرح کی کارروائیاں عالمی سطح پر تیل کی سپلائی چین کو متاثر کر سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے۔ متحدہ عرب امارات کے حکام نے واضح کیا ہے کہ اس حملے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ٹینکروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے خطے میں موجود تمام تجارتی جہازوں کو انتہائی احتیاط برتنے اور اپنی نقل و حرکت کو محدود کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، خلیجی ممالک اس معاملے کو عالمی فورمز پر اٹھانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ سمندری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ عالمی طاقتوں نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کریں اور خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے ذمہ دارانہ رویہ اپنائیں۔
ماہرینِ عسکریات کا ماننا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ہونے والے یہ واقعات خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا نتیجہ ہیں۔ ایران کی جانب سے ایسے اقدامات کو بسا اوقات خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو ثابت کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ دوسری جانب، امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بھی ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سمندری سکیورٹی میں اضافے کا عندیہ دیا ہے۔ فی الحال صورتحال کشیدہ ہے اور بین الاقوامی برادری کی نظریں اس علاقے کی تازہ ترین پیش رفت پر مرکوز ہیں تاکہ کسی بڑی فوجی تصادم کے امکان کو رد کیا جا سکے۔