LIVE
Loading Breaking News...

یو ایس ایس لنکن: امریکی سیلرز کی خودکشی کے واقعات اور ٹرمپ کا موقف

News Image
امریکی کانگریس کے ارکان نے یو ایس ایس لنکن ایئرکرافٹ کیریئر پر تعینات سیلرز کی ذہنی صحت اور خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایک غیر اہم معاملہ قرار دیا ہے۔
امریکی بحریہ کے مشہور جنگی جہاز 'یو ایس ایس ابراہم لنکن' پر تعینات اہلکاروں کی ذہنی صحت اور ان کی جانب سے جہاز سے چھلانگ لگانے کے واقعات نے واشنگٹن میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی کانگریس کے متعدد ارکان نے اس معاملے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان وجوہات کا تعین کیا جا سکے جن کی وجہ سے نوجوان سیلرز اپنی جان دینے یا جہاز چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس جہاز پر تعینات اہلکاروں میں ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے جس پر قانون سازوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورتحال پر اپنے ردعمل میں ان خدشات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یو ایس ایس لنکن پر موجود صورتحال کو میڈیا اور ان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ انتظامیہ پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ انہوں نے ان الزامات کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے معاملات بحری فوج کی آپریشنل صلاحیتوں کو متاثر کرنے کے مترادف ہیں۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کانگریس میں سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو گیا ہے اور ڈیموکریٹک ارکان نے ان کے موقف پر سخت تنقید کی ہے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک سمندر میں تعیناتی اور جہاز کے اندر سخت ماحول اہلکاروں کی نفسیاتی صحت پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ اس معاملے پر بحریہ کے اعلیٰ حکام کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ اہلکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے بہتر اقدامات کریں۔ کانگریس کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ یو ایس ایس لنکن پر پیش آنے والے واقعات کی مکمل رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا وہاں واقعی خودکشی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں یا نہیں۔ یہ تنازعہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے جب امریکی فوج کو بھرتیوں میں کمی اور تربیت یافتہ عملے کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر ان ذہنی صحت کے مسائل کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف امریکی بحریہ کی ساکھ کو متاثر کرے گا بلکہ مستقبل میں آپریشنل تیاریوں پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پینٹاگون اس صورتحال پر کیا جواب دیتا ہے اور کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی کس حد تک اس معاملے کی تہہ تک پہنچ پاتی ہے۔