World
کیمبرج کے سابق پروفیسر جیسن آرڈے کا انتقال، تحقیقات کا دائرہ کار
کیمبرج یونیورسٹی سے استعفیٰ دینے کے محض ایک ہفتے بعد جیسن آرڈے کی لاش جنوبی لندن سے برآمد ہوئی ہے۔ متوفی پر علمی سرقہ یعنی پلجیرزم کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے جن کی تحقیقات جاری تھیں۔
کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جیسن آرڈے کی لاش جنوبی لندن میں ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی ہے۔ پولیس اور مقامی حکام کے مطابق یہ واقعہ ان کے یونیورسٹی سے استعفیٰ دینے کے محض ایک ہفتے بعد پیش آیا ہے۔ جیسن آرڈے حالیہ دنوں میں علمی حلقوں میں کافی بحث کا موضوع بنے ہوئے تھے کیونکہ ان پر اپنے تحقیقی کام میں علمی سرقہ یعنی 'پلجیرزم' کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے، جن کی چھان بین یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کی جا رہی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق پولیس کو اطلاع ملنے پر ایک ٹیم موقع پر پہنچی جہاں جیسن آرڈے کو مردہ حالت میں پایا گیا۔ حکام نے فی الحال موت کی حتمی وجوہات کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ تاہم، ان کی موت کو غیر متوقع قرار دیتے ہوئے تفتیشی ادارے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کی موت کے پیچھے کوئی مجرمانہ محرکات تھے یا یہ کسی اور سبب سے پیش آیا واقعہ ہے۔
واضح رہے کہ جیسن آرڈے کا شمار ان تعلیمی شخصیات میں ہوتا تھا جنہوں نے کیمبرج یونیورسٹی میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا تھا۔ تاہم، ان کے کیریئر پر اس وقت سوالیہ نشان لگ گیا جب ان کے تحقیقی مقالوں اور تحریروں میں غیر متعلقہ حوالہ جات اور مواد کی نقل کے شواہد سامنے آئے۔ ان الزامات کے بعد یونیورسٹی کی جانب سے انضباطی کارروائی شروع کی گئی تھی جس کے دباؤ کے پیش نظر انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ افسوسناک واقعہ تعلیمی دنیا میں علمی دیانتداری پر ہونے والی بحث کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اس قسم کے الزامات نہ صرف پروفیسروں کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ یونیورسٹیوں کی شفافیت پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ فی الحال جنوبی لندن کی پولیس معاملے کی مزید تفتیش کر رہی ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی موت کی وجوہات پر تفصیلی رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی۔ جیسن آرڈے کے لواحقین اور ساتھیوں کی جانب سے اس مشکل گھڑی میں رازداری کی اپیل کی گئی ہے۔