Technology
AI کوڈنگ: کیا مصنوعی ذہانت کے تیار کردہ پروگرام قابلِ اعتماد ہیں؟
انفو ٹیک کی نئی تحقیق کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے تیار کردہ کوڈ بظاہر مکمل دکھائی دینے کے باوجود انسانی نگرانی اور جائزے کا محتاج ہے۔ کسی بھی غلطی یا سیکیورٹی خطرات سے بچنے کے لیے ماہرین کی حتمی تصدیق انتہائی ضروری ہے۔
موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (AI) نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے شعبے میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ بہت سے ڈویلپرز اب اپنا کام تیزی سے مکمل کرنے کے لیے AI ٹولز کا سہارا لے رہے ہیں، جو سیکنڈوں میں پیچیدہ پروگرامنگ کوڈ تیار کر دیتے ہیں۔ تاہم، 'انفو ٹیک' (Info-Tech) کی ایک حالیہ تحقیق نے خبردار کیا ہے کہ بظاہر مکمل اور نفیس نظر آنے والا یہ کوڈ ہرگز حتمی نہیں ہوتا اور اسے استعمال میں لانے سے قبل ایک ماہر انسان کی جانب سے مکمل جانچ پڑتال اور نظر ثانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق، اگرچہ AI ماڈلز کوڈ لکھنے میں بہت زیادہ مہارت دکھاتے ہیں اور بظاہر ان کا ڈھانچہ درست معلوم ہوتا ہے، لیکن ان میں منطقی خامیاں یا سیکیورٹی کے سنگین نقائص موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ ٹولز اکثر ایسے پرانے طریقوں کا استعمال کر سکتے ہیں جو جدید حفاظتی معیارات پر پورا نہیں اترتے یا جن میں ڈیٹا لیک ہونے کے امکانات ہوتے ہیں۔ ڈویلپرز کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ AI ایک معاون آلہ تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ پروگرامر کی ذمہ داری اور فیصلہ سازی کی جگہ نہیں لے سکتا۔
کسی بھی سافٹ ویئر پروجیکٹ میں ذمہ داری کا تعین ایک اہم مسئلہ ہے۔ اگر AI کا لکھا ہوا کوڈ کسی سسٹم کی ناکامی یا ہیکنگ کا سبب بنتا ہے، تو اس کا جواب دہ انسان ہی ہوتا ہے۔ اس لیے، کمپنیوں کو اپنی حکمت عملی میں یہ شامل کرنا چاہیے کہ AI سے تیار کردہ کوڈ کو کسی بھی پروڈکشن ماحول میں شامل کرنے سے پہلے انسانی ماہرین کی ایک ٹیم اس کا کوڈ ریویو کرے۔ یہ عمل نہ صرف سافٹ ویئر کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے بلکہ مستقبل میں ممکنہ قانونی اور تکنیکی مشکلات سے بچنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
آخر میں، ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہمیں اپنی توجہ کوڈ لکھنے کے بجائے کوڈ کی جانچ (Code Review) اور آرکیٹیکچر ڈیزائن پر مرکوز کرنی چاہیے۔ AI کی سہولتوں سے فائدہ اٹھانا وقت کا تقاضا ہے، لیکن اس پر اندھا اعتماد کرنا کسی بھی ادارے کے لیے مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ کوڈ کی کوالٹی، سیکیورٹی اور کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے انسانی ذہانت اور تجربے کا کردار بدستور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔