World
روس یوکرین جنگ: میزائل قلت اور دفاعی چیلنجز پر تازہ ترین صورتحال
یوکرینی فوج کو اس وقت میزائل انٹرسیپٹرز کی شدید قلت کا سامنا ہے جس سے دفاعی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق دونوں جانب سے جاری حملوں کے درمیان یہ صورتحال جنگ کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری طویل جنگ میں ایک نیا اور تشویشناک موڑ سامنے آیا ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر شدید حملے کر رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ یوکرینی فوج کو اس وقت میزائل انٹرسیپٹرز کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے ان کے اہم شہروں اور تنصیبات کو روسی فضائی حملوں سے بچانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ قلت برقرار رہتی ہے تو یوکرین کے لیے اپنے فضائی دفاعی نظام کو فعال رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جائے گا۔
دوسری جانب، روسی فوج بھی مسلسل حملوں کے باوجود اپنے دفاعی نظام میں دراڑیں محسوس کر رہی ہے۔ یوکرین کی جانب سے جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور میزائلوں کے استعمال نے روسی فضائی دفاع کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ جنگ کے اس مرحلے پر، جہاں دونوں اطراف کے وسائل بتدریج ختم ہو رہے ہیں، یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا یہ جنگ کسی نتیجے کی طرف بڑھ رہی ہے یا یہ ایک نہ ختم ہونے والے تعطل کا شکار ہو چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام کی یہ کمزوری دونوں ملکوں کو مزید نقصانات سے دوچار کر سکتی ہے۔
بین الاقوامی دفاعی ماہرین کے مطابق، میزائلوں کی یہ کمی محض ایک فوجی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک اسٹریٹجک بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ یوکرین کے اتحادی ممالک کی جانب سے امداد کی فراہمی میں سستی اور دوسری جانب روس کے اندر جاری پیداواری عمل کے درمیان جاری یہ کشمکش جنگ کے طول پکڑنے کا باعث بن سکتی ہے۔ روس اور یوکرین دونوں ہی اپنی جغرافیائی حدود اور ملکی وقار کی جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن جدید جنگی سازوسامان کی قلت نے اب دونوں کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں جارحیت تو برقرار ہے مگر دفاعی ڈھال کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
مستقبل کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اگر جلد ہی کوئی سفارتی پیش رفت یا عسکری توازن قائم نہ ہوا، تو دونوں ممالک مزید تباہی کا سامنا کریں گے۔ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ جنگ کے میدان میں کسی بھی ایک فریق کو مکمل برتری حاصل نہیں ہے، جس کی بنیادی وجہ دونوں اطراف کے محدود ہوتے ہوئے وسائل ہیں۔ آنے والے ہفتے اس جنگ کی سمت متعین کرنے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے، کیونکہ دفاعی نظام کی بحالی کے بغیر کسی بھی بڑے آپریشن کو جاری رکھنا دونوں فوجوں کے لیے ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔