LIVE
Loading Breaking News...

کینیڈی سینٹر پر ٹرمپ کا نام: حامیوں کی دوبارہ تنصیب کے لیے نئی کوششیں

News Image
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کینیڈی سینٹر فار پرفارمنگ آرٹس پر ٹرمپ کا نام دوبارہ نصب کرنے کے لیے قانونی اور انتظامی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ وفاقی جج کے فیصلے کے بعد نام ہٹائے جانے کے باوجود یہ معاملہ سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں واقع مشہورِ زمانہ کینیڈی سینٹر فار پرفارمنگ آرٹس ایک بار پھر سیاسی تنازع کی زد میں آ گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے وفادار اور حامیوں کا ایک گروپ اس کوشش میں مصروف ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ایک بار پھر اس ثقافتی مرکز کے ساتھ منسوب کیا جائے۔ اس سے قبل مئی کے مہینے میں ایک وفاقی جج نے اپنے فیصلے میں اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ کینیڈی سینٹر پر نصب 'دی ڈونلڈ جے ٹرمپ اینڈ' (THE DONALD J. TRUMP AND) کے الفاظ کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا تھا جب ٹرمپ انتظامیہ کے دوران کینیڈی سینٹر کے نام کے ساتھ یہ الفاظ شامل کیے گئے تھے، جسے ناقدین نے ایک سیاسی مداخلت قرار دیا تھا۔ عدالتی حکم کے بعد جب حکام نے کینیڈی سینٹر سے ٹرمپ کا نام ہٹایا تو سابق صدر کے حامیوں نے اسے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اب نئی اطلاعات کے مطابق، ٹرمپ کے حامی قانونی ماہرین اور انتظامی عہدیداروں کے ساتھ مل کر ایسے راستے تلاش کر رہے ہیں جن کے ذریعے اس نام کو دوبارہ قانونی حیثیت کے ساتھ نصب کیا جا سکے۔ ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ سابق صدر کے دور میں مرکز کی تعمیر و ترقی اور فنڈنگ میں جو کردار ادا کیا گیا، اس کا اعتراف کیا جانا چاہیے، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر سیاسی ثقافتی ادارہ ہے اور اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس معاملے پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی جج کا پچھلا فیصلہ کافی سخت تھا اور کسی بھی نئی کوشش کو دوبارہ عدالت میں چیلنج کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ فی الحال کینیڈی سینٹر کی انتظامیہ کی جانب سے اس نئی لہر پر کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا گیا ہے، تاہم سیاسی گلیاروں میں یہ بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیا ٹرمپ کا نام دوبارہ وہاں آ سکے گا یا نہیں۔ یہ معاملہ اس وسیع تر سیاسی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے جو موجودہ امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ کی میراث کے حوالے سے پائی جاتی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ٹرمپ کے حامی اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوتے ہیں یا عدالتی رکاوٹیں اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گی۔