LIVE
Loading Breaking News...

افغانستان میں خواتین کے حقوق اور امدادی بحران پر اقوام متحدہ کی تشویش

News Image
اقوام متحدہ کے مندوب نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی امداد میں کٹوتیاں اور طالبان کی سخت پابندیاں افغانستان میں خواتین کے لیے حالات مزید ابتر کر رہی ہیں۔ لاکھوں لڑکیاں تعلیم سے محروم ہیں اور ان کی زندگیاں ماضی کے مقابلے میں بالکل بدل چکی ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایک اعلیٰ ترین رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ افغانستان میں خواتین کا مستقبل انتہائی تاریک ہوتا جا رہا ہے کیونکہ بین الاقوامی امداد میں کٹوتیاں اور طالبان حکومت کی جانب سے عائد کردہ سخت پابندیاں آپس میں مل کر ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دے رہی ہیں۔ پانچ سال قبل طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان میں خواتین اور بچیوں کی زندگیوں میں نمایاں اور تکلیف دہ تبدیلیاں آئی ہیں، اور ان کی بنیادی آزادیوں پر قدغنیں لگائی جا چکی ہیں۔ بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق افغان خواتین کا کہنا ہے کہ ان کی موجودہ زندگی ناقابلِ شناخت حد تک تبدیل ہو چکی ہے اور وہ معاشرتی زندگی کے ہر شعبے سے باہر کر دی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں لاکھوں کی تعداد میں افغان لڑکیاں اور بچیاں سیکنڈری اسکولوں اور اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 24 ملین سے زائد افغان لڑکیاں اس وقت تعلیم کے حصول سے مکمل طور پر قاصر ہیں۔ طالبان کے اقتدار کو پانچ سال گزرنے کے بعد خواتین اور لڑکیوں کی اس منظم انداز میں تعلیمی و سماجی اداروں سے بے دخلی کو عالمی سطح پر معمول بنانے کی کوششوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ پیدا ہو گیا ہے کہ اس مشکل ترین ماحول میں بھی افغان عوام، خاص طور پر خواتین کی کس طرح مدد کی جائے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ دنیا بھر کے جمہوری ممالک کو طالبان کے ساتھ سفارتی اور سیاسی سطح پر احتیاط سے بات چیت جاری رکھنی چاہیے، لیکن افغان خواتین کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ امدادی فنڈز میں کمی نے پہلے سے ہی مشکلات کا شکار اس خطے کے عوام کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے، اور اگر فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔