World
برطانوی فیونرل ڈائریکٹر کا اسکینڈل، بچوں کی باقیات فرش پر چھوڑنے کا انکشاف
برطانیہ میں ایک فیونرل ڈائریکٹر کے حوالے سے ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے جس نے نومولود بچوں کے باقیات مبینہ طور پر دو سال تک فرش پر چھوڑے۔ اس گھناؤنے فعل کے بعد متاثرہ والدین نے اپنے بچوں کی غلط راکھ دیے جانے کے دردناک واقعات کو آنسوؤں کے ساتھ یاد کیا ہے۔
برطانیہ میں تدفین کی خدمات انجام دینے والے ایک ادارے کے سربراہ رابرٹ بش کے حوالے سے ایک انتہائی ہولناک اور دل دہلا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس فیونرل ڈائریکٹر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے نومولود بچوں کے باقیات کو انتہائی غیر انسانی طریقے سے دو سال تک فرش پر پڑا رہنے دیا۔ اس لرزہ خیز واقعے نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے۔ اس سانحے نے متاثرہ خاندانوں کے زخموں کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے جو پہلے ہی اپنے پیارے بچوں کی جدائی کا شدید صدمہ جھیل رہے تھے۔ عدالت اور تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے والے غمزدہ والدین نے آنسوؤں کے ساتھ ان ہولناک لمحات کو یاد کیا جب انہیں ان کے بچوں کی تدفین کے بعد مبینہ طور پر غلط راکھ تھما دی گئی تھی۔ والدین کا کہنا تھا کہ انہیں یہ تک معلوم نہیں تھا کہ جن باقیات کو انہوں نے سینے سے لگایا یا جن کی راکھ کو انہوں نے سنبھالا, وہ دراصل کن کے تھے۔ یہ انکشاف نہ صرف تدفین کے پیشے سے وابستہ افراد کے اخلاقی زوال کی عکاسی کرتا ہے بلکہ انسانیت کے منہ پر بھی ایک زور دار تماچہ ہے۔ اس سنگین معاملے کے بعد متاثرہ خاندانوں نے انصاف کا پرزور مطالبہ کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فیونرل سروسز کے اداروں پر سخت نگرانی رکھی جائے تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کی گھناؤنی حرکت کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔ پولیس اور متعلقہ محکمے اس پورے اسکینڈل کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے اور متاثرہ والدین کو کسی حد تک قانونی و اخلاقی تسلی مل سکے۔