Technology
گوگل پکسل 11 بیٹری ٹیکنالوجی: اہم اپ ڈیٹ
گوگل نے تصدیق کی ہے کہ آئندہ آنے والی پکسل 11 سیریز میں جدید سلیکون کاربن بیٹریاں استعمال نہیں کی جائیں گی۔ اس فیصلے پر صارفین اور ماہرین کی جانب سے مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں اسمارٹ فونز کی کارکردگی اور بیٹری لائف انتہائی اہمیت رکھتی ہے، تاہم گوگل کے حالیہ فیصلے نے ٹیک ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ گوگل نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ ان کی آنے والی پکسل 11 سیریز میں جدید 'سلیکون کاربن' (silicon-carbon) بیٹری ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مارکیٹ میں موجود دیگر حریف کمپنیاں تیزی سے اس جدید ٹیکنالوجی کو اپنا رہی ہیں تاکہ فونز کو ہلکا اور زیادہ دیرپا بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ سام سنگ پہلے ہی اپنے فلیگ شپ فولڈ ایبل فونز میں سلیکون کاربن بیٹریوں کو شامل کر چکا ہے، جبکہ شیاؤمی جیسے چینی برانڈز بھی طویل عرصے سے اپنے جدید ماڈلز میں یہ ٹیکنالوجی فراہم کر رہے ہیں۔ سلیکون کاربن بیٹریاں روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جس سے فون کا حجم کم کرنے اور بیٹری کی لائف بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ گوگل کا اس ٹیکنالوجی سے دوری اختیار کرنا صارفین کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گوگل کا یہ فیصلہ ان کے پرانے عذروں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں کمپنی جدت کے بجائے اپنی روایتی پالیسیوں پر عمل پیرا نظر آتی ہے۔ اگرچہ گوگل اپنے سافٹ ویئر اور کیمرہ الگورتھم میں مہارت رکھتا ہے، لیکن ہارڈویئر کے شعبے میں حریفوں کے مقابلے میں سست روی کمپنی کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے۔ صارفین توقع کر رہے تھے کہ گوگل اپنے فلیگ شپ ڈیوائسز میں بیٹری کی گنجائش بڑھانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گا، مگر حالیہ اعلان نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔
آخر میں، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا گوگل اپنے دیگر ہارڈویئر فیچرز کے ذریعے اس کمی کو پورا کر پائے گا یا صارفین دیگر برانڈز کی طرف منتقل ہونے کو ترجیح دیں گے۔ پکسل سیریز کے مداحوں کا ماننا ہے کہ اگر گوگل کو عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنا ہے تو اسے ہارڈویئر کی جدت میں مزید سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ موجودہ صورتحال میں یہ واضح ہے کہ گوگل تکنیکی ترقی کی دوڑ میں اپنے حریفوں سے پیچھے دکھائی دے رہا ہے اور اس کا موجودہ موقف آنے والے دنوں میں کمپنی کے لیے مزید تنقید کا باعث بن سکتا ہے۔