Politics
ٹرمپ کا بحریہ کو طیارہ بردار جہازوں میں سٹیم سسٹم بحال کرنے کا متنازعہ حکم
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ وہ طیارہ بردار جہازوں میں جدید برقی نظام کی جگہ پرانی سٹیم کیٹاپلٹ ٹیکنالوجی دوبارہ نصب کرے۔ اس تبدیلی پر اربوں ڈالر کے اضافی اخراجات آنے کا خدشہ ہے جبکہ بحریہ کے حکام برسوں سے اس اقدام کی مخالفت کر رہے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم اور متنازعہ فیصلے میں امریکی بحریہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے جدید طیارہ بردار جہازوں میں پرانی سٹیم کیٹاپلٹ (Steam Catapult) ٹیکنالوجی کو دوبارہ نصب کرے۔ یہ فیصلہ جدید برقی لانچنگ سسٹمز سے پرانی سٹیم ٹیکنالوجی کی طرف واپسی کا عندیہ ہے، جس پر دفاعی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق، یہ اقدام نہ صرف تکنیکی اعتبار سے ایک بڑا قدم پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے بلکہ اس پر آنے والی لاگت کا تخمینہ اربوں ڈالر لگایا گیا ہے۔
امریکی بحریہ کے حکام اور انجینئرز برسوں سے اس بات پر زور دے رہے تھے کہ جدید برقی نظام (Electromagnetic Launch Systems) طیارہ بردار جہازوں کی کارکردگی کو بڑھانے اور دیکھ بھال کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کا موقف رہا ہے کہ پرانی ٹیکنالوجی زیادہ قابل اعتماد ہے اور وہ جدید سسٹمز کے پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کے بجائے روایتی طریقے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بحریہ کے اعلیٰ حکام نے اس سے قبل وائٹ ہاؤس کے اس دباؤ کی کھل کر مخالفت کی تھی، کیونکہ اس تبدیلی کے لیے جہازوں کے بنیادی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لانی پڑیں گی جو کہ انتہائی مہنگی ثابت ہوں گی۔
اس فیصلے کے بعد بحریہ کے سامنے اب ایک بڑا مالی اور تکنیکی چیلنج کھڑا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے نہ صرف طیاروں کے اڑان بھرنے کے نظام میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی بلکہ بحری بیڑے کی تیاری اور آپریشنل صلاحیت پر بھی منفی اثر پڑے گا۔ مزید برآں، یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب دفاعی بجٹ پر پہلے ہی شدید دباؤ ہے اور جدید جنگی آلات کی تیاری کے لیے فنڈز کی قلت کا سامنا ہے۔
یہ صورتحال اب کانگریس کے ایوانوں میں بھی ایک بحث کا موضوع بن سکتی ہے، جہاں قانون سازوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ صدر کے اس حکم کی حمایت کرتے ہیں یا ملٹری قیادت کے ماہرانہ مشوروں کو اہمیت دیتے ہیں۔ فی الحال، پینٹاگون اور بحریہ کے ترجمانوں نے اس پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ اس فیصلے کے اثرات آنے والے کئی سالوں تک امریکی بحری طاقت کی ساخت اور صلاحیتوں پر مرتب ہوتے رہیں گے۔