LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشیدگی اور تیل کی منڈی پر اثرات

News Image
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کبھی نہ دیکھے جانے والے اقتصادی ہتھکنڈے استعمال کرنے اور غیر معینہ مدت تک بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کے اعلانات نے عالمی منڈی میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ان کشیدہ حالات کے پیش نظر خام تیل کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے سرمایہ کاروں میں شدید بے یقینی پائی جا رہی ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ میں نمایاں اضافے اور غیر معینہ مدت تک بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کے بیانات کے بعد عالمی تیل کی منڈی میں شدید بے یقینی اور ہلچل مچ گئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق پینٹاگون اور دیگر امریکی حکام کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ واشنگٹن تہران کو تنہا کرنے کے لیے ایسے غیر معمولی اقتصادی حربے استعمال کرے گا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے۔ ان دھمکیوں کے بعد دنیا بھر کے توانائی کے شعبے اور مالیاتی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی سطح پر تیل کی سپلائی چین پر پڑ سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ کو خطے میں درپیش چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ یو ایس ایس ابراہم لنکن سمیت دیگر عسکری اثاثوں کو درپیش صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب پینٹاگون کے حکام کا اصرار ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کو طویل یا غیر معینہ مدت تک برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ اس نوعیت کے جارحانہ بیانات نے خلیجی خطے میں جنگ کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے توانائی کی سپلائی کے اہم ترین راستے خطرے کی زد میں آسکتے ہیں۔ تیل کی تجارت سے وابستہ تاجر اور سرمایہ کار موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے قیمتوں میں اچانک اور بڑا اتار چڑھاؤ آسکتا ہے۔ عالمی اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے اور اقتصادی پابندیوں کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے، تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوگی۔ خصوصاً ترقی پذیر ممالک جن کا انحصار درآمدی تیل پر ہے، وہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بوجھ تلے دب سکتے ہیں۔ مارکیٹ کے تجزیہ کار موجودہ حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جب تک کہ سفارتی سطح پر اس بحران کو کم کرنے کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہوتی۔