LIVE
Loading Breaking News...

پولیس کی نگرانی کا غلط نظام، شہری سات ماہ تک جیل کی ہوا کھاتا رہا

News Image
فلوریڈا میں پولیس کی جانب سے غلط نمبر پلیٹ کی شناخت کے باعث ایک بے گناہ شہری کو سات ماہ تک سنگین قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جدید نگرانی کے نظام میں موجود خامیوں کے نتیجے میں ہونے والی یہ غلطی پولیس کی ساکھ پر سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں ایک لرزہ خیز واقعہ سامنے آیا ہے جہاں پولیس کی جانب سے استعمال ہونے والے جدید نگرانی کے نظام ’فلاک سرویلنس‘ کی ایک بڑی غلطی کے نتیجے میں ایک بے گناہ شہری کو سات ماہ تک قانونی عذاب اور جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب 4 اکتوبر 2025 کو جواکین ڈینو اپنی پوتی کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے بعد اپنی بیٹی کے گھر جا رہے تھے، تب ہی پولیس نے گاڑیوں کی نمبر پلیٹ شناخت کرنے والے کیمروں کے ڈیٹا پر انحصار کرتے ہوئے انہیں غلطی سے کسی اور جرم میں ملوث قرار دے دیا۔ پولیس حکام کی جانب سے ٹیکنالوجی پر اندھا اعتماد کرنے کا خمیازہ ایک عام شہری کو بھگتنا پڑا جس کی زندگی اس غلطی کی وجہ سے مکمل طور پر درہم برہم ہو کر رہ گئی۔ یہ واقعہ نہ صرف امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تکنیکی صلاحیتوں پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ اس بات کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ نگرانی کے جدید نظام کس طرح انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹ سکین کرنے والے کیمرے اکثر غلط معلومات فراہم کرتے ہیں، اور جب پولیس کے افسران بغیر تصدیق کیے ان کیمروں کے ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اس کیس میں متاثرہ شخص کو کئی ماہ تک تفتیش اور عدالتوں کے چکر لگانے پڑے، جبکہ پولیس کی جانب سے دی گئی غلط معلومات کو درست ثابت کرنے میں ہی ایک طویل عرصہ لگ گیا۔ فلاک سرویلنس اور اسی طرح کے دیگر نگرانی کے نظام امریکہ بھر میں پولیس کے لیے مددگار سمجھے جاتے ہیں، تاہم ان کے غلط استعمال یا تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے پہلے بھی کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ کہیں پولیس اہلکاروں کی جانب سے نجی معاملات میں ان کیمروں کے غلط استعمال کی شکایات ہیں تو کہیں غلط شناخت کی وجہ سے بے گناہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا پولیس کے پاس ٹیکنالوجی کا اتنا زیادہ کنٹرول ہونا چاہیے کہ وہ انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگا دے؟ متاثرہ خاندان نے اب اس سسٹم کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور پولیس حکام سے جواب طلبی کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پولیس کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ انسانی فیصلے اور زمینی حقائق کی تصدیق کو لازمی بنانا چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی اور بے گناہ شہری کو ایسے دردناک قانونی عذاب سے نہ گزرنا پڑے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا انتظامیہ اس واقعے کے بعد نگرانی کے نظام میں اصلاحات لاتی ہے یا ایسے واقعات کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔