LIVE
Loading Breaking News...

سلامتی کونسل میں یمن کی صورتحال پر تشویشناک بریفنگ

News Image
اقوام متحدہ کے حکام نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حملے ملک کو ایک بار پھر مکمل جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ روس نے یمن پر عائد ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے موجودہ علاقائی کشیدگی کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اہم اجلاس میں یمن کی موجودہ صورتحال اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ یمن میں حالیہ مہینوں کے دوران حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جو کہ سنہ 2022 میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے اور ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام کا ماننا ہے کہ اگر فریقین نے فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ ملک ایک بار پھر تباہ کن خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ امورِ انسانیہ کے سربراہ اور ہنگامی امداد کے رابطہ کار ٹام فلیچر نے سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے یمن کی بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یمن اس وقت 2022 کے بعد سے جنگ کی طرف واپسی کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہے۔ دوسری جانب، اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے سعودی عرب کی جانب سے یمن کے سرکاری اداروں کو فراہم کی جانے والی مالی اور انتظامی مدد کو ایک انتہائی اہم لائف لائن قرار دیا ہے جو ملک کو مکمل انہدام سے بچائے ہوئے ہے۔ اس اجلاس کے دوران عالمی سفارتی محاذ پر بھی گرما گرمی دیکھنے میں آئی جہاں روس نے یمن پر عائد کردہ مکمل ناکہ بندی کو فوری طور پر ختم کرنے کا دوٹوک مطالبہ کیا۔ روسی نمائندے نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور موجودہ بحران کا براہِ راست ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کو قرار دیا۔ مبصرین کے مطابق، سلامتی کونسل میں ہونے والی ان بحثوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یمن کا بحران ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے اور اگر فوری سفارتی کوششیں نہ کی گئیں تو یمن کے عوام ایک نئے انسانی المیے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔