LIVE
Loading Breaking News...

سونے کی عالمی قیمتوں میں تیزی، ماہرین کی پیشگوئی

News Image
امریکی ڈالر کی قدر میں کمی کے باعث عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے افراطِ زر کے اعداد و شمار پر نظریں مرکوز ہیں جس سے شرح سود میں استحکام کی توقعات پیدا ہو رہی ہیں۔
عالمی منڈی میں 14 اگست 2026 کو سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر ہلچل دیکھی گئی ہے۔ امریکی ڈالر کی قدر میں حالیہ کمی نے سونے کے خریداروں کے لیے مارکیٹ میں نئی دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، امریکی افراطِ زر کے تازہ ترین اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود کو فی الحال برقرار رکھا جائے گا، جس سے سونے کی قیمتوں کو وقتی سہارا ملا ہے۔ اس رجحان نے سرمایہ کاروں کو محتاط انداز میں خریداری کرنے پر مائل کیا ہے۔ دوسری جانب، ہفتہ وار ٹریڈنگ کے اختتام پر سونے کی قیمتوں میں کچھ تنزلی کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گزشتہ دنوں افراطِ زر کے دباؤ کے باعث سونے کی قیمتوں میں جو تیزی دیکھی گئی تھی، اب سرمایہ کار اس سے منافع سمیٹنے کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں۔ روئٹرز کی رپورٹس کے مطابق مارکیٹ کے کھلاڑی اب اپنی پوزیشنز کو تبدیل کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے سونے کی قیمتوں میں ایک وقتی تھم سا گیا ہے۔ تاہم طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے ابھی بھی مارکیٹ میں کافی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ مستقبل کے حوالے سے مالیاتی ماہرین مختلف رائے رکھتے ہیں۔ کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کے فیصلوں اور افراطِ زر کے بدلتے ہوئے رجحانات سونے کی قیمت کو مزید ایک نئی سمت دے سکتے ہیں۔ اگرچہ فی الحال مارکیٹ میں 'ڈپ مینٹلٹی' یعنی قیمت کم ہونے پر خریداری کا رجحان کم ہے، لیکن عالمی سیاسی اور معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے سونے میں سرمایہ کاری اب بھی محفوظ سمجھی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے اپنے فیصلوں میں احتیاط سے کام لیں کیونکہ آنے والے دنوں میں عالمی معاشی اشاریے مزید تبدیل ہو سکتے ہیں۔