LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں چینی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور اثرات

News Image
عالمی منڈی میں سفید چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ریفائننگ سیکٹر کو تقویت مل رہی ہے۔ دنیا بھر میں چینی کی پیداوار میں متوقع کمی نے عالمی سپلائی چین کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
عالمی منڈی میں سفید چینی کی قیمتوں میں حالیہ تیزی نے چینی کی ریفائننگ کرنے والی کمپنیوں کے لیے منافع کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، دنیا بھر میں چینی کی پیداوار کے حوالے سے تشویشناک رپورٹس اور رسد میں متوقع کمی نے قیمتوں کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹس کے مطابق، خام چینی کے ساتھ ساتھ کوکو کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی کموڈٹی مارکیٹ پر پڑ رہا ہے۔ سری رینوکا شوگرز جیسی بڑی عالمی کمپنیوں کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر چینی کا خسارہ طویل عرصے تک قیمتوں کو مستحکم اور بلند رکھنے کا باعث بنے گا، جس سے ریفائننگ کے شعبے کو مزید تقویت ملے گی۔ بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں بھی اس رجحان کا گہرا اثر دیکھا گیا ہے جہاں بلرام پور چینی، دھام پور شوگر اور ڈالمیا بھارت جیسی کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں صرف دو دنوں کے اندر 12 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے چینی کے شعبے میں اس دلچسپی کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں رسد اور طلب کا عدم توازن ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپ میں چینی کی پیداوار گزشتہ دس برسوں کی کم ترین سطح پر جانے کا امکان ہے، جو کہ عالمی سپلائی چین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ یورپی ممالک میں چینی کی کم پیداوار کی بنیادی وجوہات میں موسم کی ناموافق صورتحال اور کاشتکاری کے بدلتے ہوئے طریقے شامل ہیں۔ عالمی سپلائی میں اس کمی کے باعث برآمد کنندگان اور ریفائنرز دونوں ہی محتاط ہیں، جس کے نتیجے میں مستقبل قریب میں قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ مارکیٹ کے مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر عالمی پیداوار میں بہتری نہ آئی تو صارفین کو آنے والے مہینوں میں مزید مہنگی چینی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف صنعتی ریفائننگ کے عمل کو تیز کیا ہے بلکہ حکومتوں کو بھی اپنی مقامی ذخائر کی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے تاکہ خوراک کے بحران سے بچا جا سکے۔