LIVE
Loading Breaking News...

یورپ میں ہیٹ ویو اور جنگلات کی آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی

News Image
یورپ بھر میں ریکارڈ توڑ گرمی کے باعث جنگلات میں لگنے والی آگ بے قابو ہو چکی ہے جس نے اب تک پانچ لاکھ ہیکٹر رقبے کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا ہے۔ اس قدرتی آفت کی وجہ سے ہزاروں شہریوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنی پڑی ہے۔
موجودہ موسم گرما میں یورپ شدید ترین ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہے جس نے براعظم بھر کے جنگلات میں آگ کو ہوا دے دی ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے جنگلات میں لگنے والی آگ اب قابو سے باہر ہو چکی ہے اور بڑے پیمانے پر انسانی و ماحولیاتی نقصان کا باعث بن رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک تقریباً پانچ لاکھ ہیکٹر رقبہ اس آگ کی نذر ہو چکا ہے جس سے مقامی حیاتیاتی تنوع کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر مختلف یورپی ممالک کے حکام نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور ہزاروں شہریوں کو ان کے گھروں سے انخلاء کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ شدید گرمی کے باعث فائر فائٹرز کو آگ بجھانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ خشک موسم اور تیز ہوائیں آگ کو مزید تیزی سے پھیلنے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے مکین اپنی زندگی بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں جبکہ حکومتی ادارے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ سائنسی حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ واقعات موسمیاتی تبدیلیوں کا براہ راست نتیجہ ہیں۔ زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے قدرتی آفات کی شدت اور تعدد میں اضافہ کر دیا ہے، جس سے یورپ جیسے ترقی یافتہ خطے بھی محفوظ نہیں رہے۔ اگرچہ یورپی یونین کی جانب سے آگ بجھانے کے لیے بین الاقوامی تعاون اور وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے، تاہم گرمی کی لہر میں کمی نہ آنے تک صورتحال کے مزید بگڑنے کا خدشہ موجود ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر موثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں ایسے ہیٹ ویو کے واقعات معمول بن جائیں گے۔ یورپ میں جنگلات کی یہ آگ نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے بلکہ یہ کرہ ارض کے بگڑتے ہوئے ماحولیاتی توازن کی ایک بڑی علامت بھی ہے، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔