World
قصرا میں اسرائیلی فوج کا متنازع کردار: آباد کاروں کی حمایت کے الزامات
مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں قصرا میں فلسطینیوں نے اسرائیلی فوج پر یہودی آباد کاروں کی پشت پناہی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن کے دوران آباد کاروں کو کھلی چھوٹ دی گئی۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے قصرا میں کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب مقامی فلسطینیوں نے اسرائیلی فوج پر باقاعدہ طور پر یہ سنگین الزامات عائد کیے کہ وہ علاقے میں سرگرم انتہا پسند یہودی آباد کاروں کی کھلی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ عینی شاہدین اور مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران، جن کا مقصد بظاہر سیکیورٹی برقرار رکھنا ہوتا ہے، ان آباد کاروں کو فلسطینیوں کی املاک پر حملے کرنے اور انہیں ہراساں کرنے کی کھلی چھوٹ دی جاتی ہے۔ قصرا کے مکینوں نے متعدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی آباد کار فلسطینی زرعی زمینوں یا گھروں پر حملہ آور ہوتے ہیں، تو اسرائیلی فوجی یا تو خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں یا پھر متاثرین کو ہی پیچھے ہٹنے کا حکم دیتے ہیں۔
فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اسرائیلی ریاست کی جانب سے آباد کاروں کو تحفظ فراہم کرنا دراصل ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا ہے۔ قصرا میں پیش آنے والے حالیہ واقعات نے بین الاقوامی سطح پر بھی آوازیں بلند کی ہیں، جہاں مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کا یہ طرز عمل بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مقامی لوگوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور مغربی کنارے میں جاری آباد کاروں کی دہشت گردی کو روکنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔
دوسری جانب، اسرائیلی حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فوج علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے کام کر رہی ہے اور تمام کارروائیاں قانونی حدود کے اندر ہوتی ہیں۔ تاہم، زمینی حقائق اور ویڈیو ثبوت اکثر ان سرکاری دعووں کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ قصرا کے عوام کا عزم ہے کہ وہ اپنی زمینوں کا دفاع جاری رکھیں گے، چاہے انہیں ریاستی طاقت اور آباد کاروں کی ملی بھگت کا سامنا ہی کیوں نہ ہو۔ اس تنازعے نے ایک بار پھر مغربی کنارے کی بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور اسرائیل کی فوجی پالیسیوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس سے خطے میں مزید بدامنی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔