LIVE
Loading Breaking News...

امریکی نجی کمپنیوں کو غیر ملکی سائبر گروہوں کے خلاف کارروائی کی اجازت

News Image
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے قومی سلامتی میمورنڈم پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت مخصوص نجی کمپنیاں غیر ملکی مجرمانہ گروہوں کے خلاف سائبر آپریشنز کر سکیں گی۔ یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایک اہم قومی سلامتی صدارتی میمورنڈم پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت منظور شدہ نجی امریکی کمپنیوں کو بیرون ملک فعال مجرمانہ گروہوں کے خلاف جارحانہ سائبر کارروائیاں کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد بین الاقوامی سطح پر موجود سائبر جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف امریکی دفاعی صلاحیتوں کو وسعت دینا اور تیزی سے بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کا مؤثر جواب دینا ہے۔ اس میمورنڈم کو 'بین الاقوامی سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے صلاحیتوں کا پھیلاؤ' کا نام دیا گیا ہے، جو امریکی سائبر حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ نئے حکومتی حکم نامے کے مطابق، اب صرف سرکاری ادارے ہی نہیں بلکہ منتخب نجی کمپنیاں بھی حکومتی نگرانی میں غیر ملکی ہیکرز اور مجرمانہ تنظیموں کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو ہدف بنا سکیں گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ان مجرمانہ گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے میں مدد دے گا جو اکثر غیر ملکی حدود کا فائدہ اٹھا کر امریکی مفادات کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس عمل کے دوران نجی شعبے کی تکنیکی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کو قومی سلامتی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، جس سے نجی اور سرکاری شعبے کے درمیان تعاون کا ایک نیا باب کھلے گا۔ تاہم، اس اقدام پر مختلف حلقوں کی جانب سے احتیاط برتنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیوں کو جارحانہ سائبر آپریشنز میں شامل کرنے سے قانونی اور اخلاقی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہوگا کہ ان کمپنیوں کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین اور امریکی خارجہ پالیسی کے تقاضوں کے مطابق ہوں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام آپریشنز سخت نگرانی اور مخصوص اصول و ضوابط کے تحت ہوں گے تاکہ کسی بھی قسم کے غلط استعمال سے بچا جا سکے اور قومی وقار کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر سائبر جنگ کی بڑھتی ہوئی نوعیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مستقبل میں اس طرح کی حکمت عملی دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال بن سکتی ہے، جہاں نجی شعبے کو ریاستی سطح کی سائبر سیکورٹی میں ایک فعال شراکت دار بنایا جائے گا۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ سائبر اسپیس میں اپنی برتری قائم رکھنے کے لیے نجی شعبے کی تیزی اور جدت کا فائدہ اٹھانا ناگزیر ہو چکا ہے، تاکہ دشمن عناصر کے خلاف بروقت اور موثر جوابی اقدامات کیے جا سکیں۔