Technology
اے ٹی ایمز اور مصنوعی ذہانت: ملازمتوں پر اثرات اور تاریخ کا سبق
مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجیز کے باعث لیبر مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ تاریخی طور پر اے ٹی ایم اور دیگر ایجادات نے ملازمتوں کے حوالے سے جو اسباق سکھائے ہیں، وہ آج کی اے آئی کے دور میں بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
نئی ایجادات اور ٹیکنالوجیز، جن میں بجلی کے بلب سے لے کر فارم ٹریکٹر، آٹوموبائل، لیپ ٹاپ کمپیوٹر اور اب رائڈ شیئرنگ ایپس شامل ہیں، ہمیشہ سے لیبر مارکیٹ میں شدید تعطل کا باعث بنتی رہی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جاتی ہے تو معاشرے میں اس کے خلاف شدید ردعمل بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں کہ ان کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہو گا۔ آج کے دور میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے حوالے سے بھی بالکل ایسا ہی خوف پایا جاتا ہے اور مباحثے گرم ہیں۔
تاہم، اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اثرات اتنے سادہ نہیں ہوتے جتنا بظاہر نظر آتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال بینکوں کے اے ٹی ایم (ATM) یعنی آٹومیٹڈ ٹیلر مشینز کی ہے۔ جب اے ٹی ایمز کو متعارف کروایا گیا تو یہ سمجھا جا رہا تھا کہ بینک برانچوں میں کیشئرز اور عملے کی ضرورت ختم ہو جائے گی اور بڑے پیمانے پر ملازمتیں چلی جائیں گی۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ اے ٹی ایمز آنے سے بینکوں کے لیے نئی شاخیں کھولنا سستا ہو گیا کیونکہ فی شاخ کیشئرز کی تعداد کم درکار تھی۔ نتیجے کے طور پر بینکوں کی شاخوں میں مجموعی اضافہ ہوا اور بینک ملازمین کی مانگ بڑھ گئی۔
اے ٹی ایم مشینز نے بینکنگ عملے کے کام کی نوعیت ضرور تبدیل کر دی لیکن انہیں بالکل فارغ نہیں کیا۔ کلرک جو سارا دن صرف نقد لین دین کا کام کرتے تھے، اب کسٹمرز کو بہتر مالیاتی مشورے دینے اور اضافی خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو گئے۔ اس تاریخی واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ٹیکنالوجی ہر بار ملازمتوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کی بجائے ان کے دائرہ کار کو تبدیل کرتی ہے اور انسانوں کو زیادہ بہتر اور تخلیقی کاموں کی طرف منتقل ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
آج جب ہم مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کے اس دور میں داخل ہو چکے ہیں، تو ہمیں اے ٹی ایمز سے ملنے والے اس سبق کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ اے آئی بلاشبہ بہت سے معمول کے اور بار بار دہرائے جانے والے کاموں کو خودکار بنا دے گی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسانی عملے کی ضرورت یکسر ختم ہو جائے گی۔ ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نئی ٹیکنالوجی سے گھبرانے کی بجائے خود کو اس کے مطابق ڈھالیں اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں تاکہ بدلتے ہوئے معاشی منظر نامے میں بہترین مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔