Politics
سیاست میں انفلوئنسرز کا اثر اور انتخابی فنڈنگ کے نئے قوانین
موجودہ انتخابی مہمات میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے بڑھتے ہوئے کردار نے انتخابی فنڈنگ کے قوانین میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ایک نئے قانون پر غور کیا جا رہا ہے جس کا مقصد ڈیجیٹل تشہیر کو باضابطہ بنانا ہے۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا کردار سیاسی میدان میں انتہائی فیصلہ کن بن چکا ہے۔ سن 2024 کے انتخابات کے دوران، جنہیں 'انفلوئنسر الیکشن' بھی قرار دیا جا رہا ہے، سیاستدانوں نے نوجوان ووٹرز تک رسائی حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا شخصیات کے ساتھ وسیع پیمانے پر تعاون کیا ہے۔ یہ اشتراک جہاں ایک طرف سیاسی جماعتوں کو براہ راست نوجوانوں کے بیڈ رومز اور اسمارٹ فونز تک پہنچانے کا ذریعہ بنا ہے، وہیں اس نے انتخابی اخراجات اور مالیاتی شفافیت کے حوالے سے ایک سنگین قانونی خلا بھی پیدا کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی قوانین، جو روایتی میڈیا جیسے ٹیلی ویژن اور اخبارات کے لیے بنائے گئے تھے، اب ڈیجیٹل دنیا کے تقاضوں کے سامنے کمزور پڑ چکے ہیں۔ انفلوئنسرز کے ذریعے کی جانے والی تشہیر اکثر انتخابی اخراجات کی حدود میں شمار نہیں کی جاتی، جس کی وجہ سے سیاسی جماعتیں شفافیت کے بغیر بھاری رقوم خرچ کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال انتخابی عمل کی دیانت داری اور برابری کے اصولوں پر سوالیہ نشان اٹھا رہی ہے، کیونکہ ہر امیدوار کو یکساں مواقع فراہم کرنے کا جمہوری حق متاثر ہو رہا ہے۔
ان خدشات کے پیش نظر اب ایک نئی قانون سازی پر زور دیا جا رہا ہے جس کا بنیادی مقصد اس 'فنڈنگ لوپ ہول' کو بند کرنا ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت اب سوشل میڈیا پر کی جانے والی کسی بھی سیاسی تشہیر کو انتخابی اخراجات کے گوشواروں میں ظاہر کرنا لازمی قرار دیا جائے گا، قطع نظر اس کے کہ وہ تشہیر براہ راست پیسے دے کر کی گئی ہو یا تحفے کے طور پر۔ قانون سازوں کا ماننا ہے کہ اگر وقت رہتے اس عمل کو ریگولیٹ نہیں کیا گیا تو مستقبل کے انتخابات میں غیر شفاف رقوم کا بہاؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جو جمہوریت کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
نئے قوانین کے اطلاق سے نہ صرف سیاسی مہمات میں شفافیت آئے گی بلکہ انفلوئنسرز کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے گا۔ ڈیجیٹل میڈیا کے پلیٹ فارمز کو بھی ہدایت کی جا سکتی ہے کہ وہ سیاسی مواد کی تشہیر کے لیے واضح لیبلز اور مالیاتی تفصیلات فراہم کرنے کا نظام وضع کریں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ٹیکنالوجی اور سیاست کا یہ ملاپ کس طرح قانونی ضابطوں کی گرفت میں آتا ہے اور کیا یہ اصلاحات انتخابی عمل کو مزید صاف شفاف بنانے میں کامیاب ہو پائیں گی۔