LIVE
Loading Breaking News...

فیلڈ آف ڈریمز بیس بال میچ اور اے بی ایس ٹیکنالوجی کا تنازعہ

News Image
آئیووا کے کھیتوں میں منعقد ہونے والے مشہور فیلڈ آف ڈریمز بیس بال میچ میں اے بی ایس ٹیکنالوجی کے استعمال پر پابندی کے سوالات نے شائقین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ یہ مقابلہ 1989 کی مشہور فلم کی یاد تازہ کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔
میجر لیگ بیس بال (ایم ایل بی) ایک بار پھر آئیووا کے شہر ڈائرس وِل کے مشہور مکئی کے کھیتوں میں واپسی کر رہا ہے جہاں 'فیلڈ آف ڈریمز' گیم کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ میچ 1989 کی کلاسک بیس بال فلم کی یادوں کو تازہ کرنے کے لیے کھیلا جاتا ہے جس میں کیون کوسٹنر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ تاہم، اس سال شائقین کے ذہنوں میں ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اس خاص مقابلے میں 'آٹومیٹڈ بال اسٹرائیک سسٹم' (اے بی ایس) یعنی خودکار اسٹرائیک زون کے چیلنجز کی اجازت کیوں نہیں دی گئی، حالانکہ مائنر لیگز میں اس ٹیکنالوجی کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، فیلڈ آف ڈریمز گیم کا بنیادی مقصد کھیل کی تکنیکی باریکیوں سے زیادہ اس فلمی ماحول اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنا ہے۔ منتظمین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے نمائشی میچوں میں کسی بھی قسم کی جدید ٹیکنالوجی کا نفاذ اس کھیل کی روایتی روح کو متاثر کر سکتا ہے۔ یہ مقابلہ بنیادی طور پر ایک تہوار کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد شائقین کو ایک انوکھا تجربہ فراہم کرنا ہے، اسی لیے امپائرز کے فیصلوں پر انسانی فیصلہ سازی کو ہی فوقیت دی گئی ہے تاکہ کھیل کا روایتی انداز برقرار رہے۔ دوسری جانب، اے بی ایس سسٹم کو نہ لانے کے پیچھے لاجسٹک اور تنصیبات کے مسائل بھی کارفرما ہیں۔ اس عارضی اسٹیڈیم میں جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل کیمروں اور ریڈار سسٹم کو نصب کرنا ایک انتہائی پیچیدہ کام ہے جو صرف ایک یا دو میچوں کے لیے معاشی اعتبار سے سودمند نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ کھلاڑی اور شائقین شفافیت کے لیے اے بی ایس کی حمایت کرتے ہیں، لیکن ایم ایل بی انتظامیہ کا موقف ہے کہ اس میچ کی منفرد نوعیت کو دیکھتے ہوئے، کھیل کو اسی طرح رکھا گیا ہے جیسا کہ یہ دہائیوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ فی الحال، فیلڈ آف ڈریمز گیم اپنے منفرد مقام اور فلمی پس منظر کی وجہ سے دنیا بھر کے بیس بال شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی کے حوالے سے بحث جاری رہے گی، لیکن اس وقت تمام تر توجہ فلاڈیلفیا فلز اور مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر ہے۔ یہ میچ نہ صرف کھیلوں کے میدان میں بلکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے طور پر بھی ایک یادگار لمحہ ثابت ہو رہا ہے، جہاں کروڑوں شائقین اپنے پسندیدہ کھیل کو مکئی کے کھیتوں کے بیچ ایک نئے انداز میں دیکھ رہے ہیں۔