Education
کیلیفورنیا میں آرٹس ایجوکیشن فنڈز کا بحران
کیلیفورنیا کے ووٹرز نے تین سال قبل اسکولوں میں آرٹس کی تعلیم کے لیے ایک ارب ڈالر کی خطیر رقم منظور کی تھی۔ اب انتظامی مسائل اور بجٹ کی پیچیدگیوں کی وجہ سے اسکول یہ فنڈز واپس کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
کیلیفورنیا میں تین سال قبل ووٹرز کی جانب سے منظور کیے گئے ایک انتہائی اہم تعلیمی اقدام کے تحت ریاست کے کے-12 (K-12) اسکولوں کو آرٹس اور موسیقی کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے ایک ارب ڈالر کی خطیر رقم فراہم کی جانی تھی۔ اس اقدام کا مقصد ریاست بھر کے سرکاری اسکولوں میں آرٹس کے نصاب کو مستحکم کرنا اور طلباء کو تخلیقی مواقع فراہم کرنا تھا۔ تاہم، توقعات کے برعکس، اب یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ کئی اسکول اضلاع یہ رقم واپس کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ اس صورتحال نے والدین، اساتذہ اور پالیسی سازوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے کہ آخر وہ رقم جو اسکولوں کے لیے ایک تحفہ سمجھی جا رہی تھی، اب بوجھ کیسے بن گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس صورتحال کی بنیادی وجہ بیوروکریسی کی پیچیدگیاں اور فنڈز کے استعمال کے سخت ضوابط ہیں۔ کیلیفورنیا کے بہت سے اسکول اضلاع کا کہنا ہے کہ انہیں یہ رقم استعمال کرنے کے لیے جو سخت شرائط دی گئی ہیں، ان پر عمل درآمد کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اکثر اسکولوں میں پہلے سے ہی آرٹس کے اساتذہ کی کمی ہے اور طویل مدتی منصوبے شروع کرنے کے لیے درکار افرادی قوت اور انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، حالیہ بجٹ خسارے نے بھی اسکولوں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں، جہاں انہیں آرٹس کے بجائے بنیادی تعلیمی اخراجات کو ترجیح دینی پڑ رہی ہے۔
دوسری جانب، اسکول انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اگر وہ غیر معمولی حالات میں ان فنڈز کو خرچ کرتے ہیں تو مستقبل میں ان پر مالی آڈٹ اور قانونی کارروائی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ یہی خوف انہیں اس رقم کو استعمال کرنے سے روک رہا ہے اور وہ فنڈز کو ریاستی خزانے میں واپس کرنے کو ہی بہتر حکمت عملی سمجھ رہے ہیں۔ اس فیصلے سے طلباء کا نقصان ہو رہا ہے جنہیں کلاس رومز میں بہتر آرٹس کی سہولیات ملنی تھیں۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ ریاست کو فنڈز کے اجرا کے طریقہ کار کو مزید لچکدار بنانا چاہیے تاکہ اسکول اپنی مقامی ضروریات کے مطابق ان وسائل کو استعمال کر سکیں۔
اس صورتحال پر اب کیلیفورنیا کی ریاستی حکومت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت اسکولوں کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی وضع کرے جس سے یہ فنڈز ضائع ہونے کے بجائے طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے پر خرچ ہوں۔ اگر یہ رقم واپس ہو گئی تو یہ نہ صرف ایک ارب ڈالر کا ضیاع ہوگا بلکہ ان ہزاروں بچوں کے مستقبل کے لیے بھی ایک بڑا نقصان ہوگا جو آرٹس کی تعلیم کے منتظر تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت اس حوالے سے کوئی نئی پالیسی لاتی ہے یا یہ تعلیمی منصوبہ بیوروکریسی کی نذر ہو جائے گا۔