Business
چلیز کی کامیابی کا راز کم قیمتیں ہیں: برنکر سی ای او
برنکر انٹرنیشنل کے سی ای او کےون ہوچمین کا کہنا ہے کہ چلیز ریستوران کم قیمتیں برقرار رکھ کر صارفین کے دل جیت رہا ہے۔ کمپنی کی یہ حکمت عملی مہنگائی کے اس دور میں صارفین کو اپنی طرف راغب کرنے میں انتہائی کامیاب ثابت ہو رہی ہے۔
برنکر انٹرنیشنل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کےون ہوچمین نے جمعرات کے روز ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ معروف امریکی فوڈ چین چلیز (Chili's) کی کامیابی کا سب سے بڑا راز اس کی کم قیمتیں ہیں۔ موجودہ دور میں جب دنیا بھر میں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، چلیز نے اپنی اشیا کی قیمتوں کو قابو میں رکھ کر صارفین کا اعتماد جیتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی گزشتہ چار سالوں سے کامیابی کے ساتھ دس ڈالر اور ننانوے سینٹ کی مہم چلا رہی ہے، جس نے مارکیٹ میں ایک زبردست ہلچل مچا دی ہے۔
کےون ہوچمین کا مزید کہنا تھا کہ آج کے صارف کو کسی قسم کی پیچیدہ رعایتوں یا الجھن میں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ سیدھی اور سستی ڈیلز کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے مینو کو زیادہ پیچیدہ بنانے کے بجائے بنیادی کھانوں پر توجہ مرکوز رکھی اور قیمتوں کو ایک مناسب سطح پر برقرار رکھا۔ اس حکمت عملی کی بدولت نہ صرف ان کے پرانے گاہک برقرار رہے ہیں بلکہ نئے صارفین کی ایک بڑی تعداد بھی چلیز کی طرف راغب ہوئی ہے۔
امریکہ اور دیگر ممالک میں ریستوران انڈسٹری اس وقت شدید مسابقت کا شکار ہے کیونکہ خوراک کی بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے زیادہ تر برانڈز نے اپنی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے برعکس، چلیز کا یہ مؤقف کہ وہ عام آدمی کی جیب کا خیال رکھیں گے، ان کے لیے ایک بہترین کاروباری موڑ ثابت ہوا۔ ان کے اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طویل المدتی کامیابی کے لیے صارفین کے ساتھ اخلاقی اور مالیاتی ہم آہنگی کتنی ضروری ہے۔
مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے برنکر کے سی ای او نے اشارہ دیا کہ وہ اسی پالیسی پر کاربند رہیں گے تاکہ افراط زر کے اس کٹھن دور میں بھی اپنے صارفین کو بہترین اور سستا کھانا فراہم کر سکیں۔ تجزیہ کاروں کا بھی ماننا ہے کہ دیگر فوڈ چینز کو بھی چلیز کے اس ماڈل سے سیکھنا چاہیے تاکہ وہ معاشی بحران کے دوران اپنے گاہکوں کو کھونے سے بچا سکیں۔